انگلینڈ کا مرد و خواتین کرکٹ ٹیمیں پاکستان بھیجنے سے انکار

سماء نیوز  |  Sep 20, 2021

انگلینڈ نے بھی اپنی ٹیمیں پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا۔ ای سی بی کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں مرد و خواتین کی ٹیمیں پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میں کہا گیا ہے کہ ای سی بی 2022ء میں مردوں کے فیوچر ٹور پروگرام کے طور پر پاکستان کے دورے کیلئے دیرینہ عزم رکھتا ہے، رواں سال کے آغاز پر ہم نے اکتوبر میں پاکستان میں 2 اضافی ٹی 20 ورلڈ کپ وارم اپ میچز کھیلنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں مردوں کے ساتھ خواتین کا مختصر دورہ بھی شامل کیا گیا۔

ای سی بی نے گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کی جانب سے کرکٹ ٹیم واپس بلانے کے بعد دورۂ پاکستان سے متعلق 48 گھنٹوں میں حتمی فیصلہ کرنے کا کہا تھا۔ انگلش بورڈ کا اعلامیے میں مزید کہنا ہے کہ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اکتوبر میں مرد و خواتین ٹیموں کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ای سی بی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا ذہنی اور جسمانی تحفظ ترجیح ہے، خطے میں سفر کے بارے میں خدشات ہیں۔

چیئرمین پی سی بی کا ردعمل

چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کئے جانے کے فیصلے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، اس طرح کے واقعات سے پاکستان ٹیم کو جاگنا ہوگا، ہمیں دنیا کی بہترین ٹیم بن کر دکھانا ہوگا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے دورے کی منسوخی

اس سے قبل ترجمان پی سی بی کے مطابق نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درميان حاليہ سيريز قطعی طور پر باہمی سیریز تھی، اس لئے اس معاملے پر آئی سی سی دونوں بورڈز پر انتظامی سطح پر کچھ نہیں کرسکتا۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ پی سی بی اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ سے دورۂ پاکستان منسوخ کئے جانے سے ہونيوالے نقصانات کے معاملات کو آپس میں طے کريں گے، اس سلسلے ميں پی سی بی حکام نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ سے رابطے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈکرکٹ ٹیم کے دورے کی منسوخ،برطانوی ہائی کمشنرکی وضاحتپی سی بی اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ میں سیریز کی منسوخی سے ہونیوالے نقصان کا ازالہ کرنے پر بھی بات ہورہی ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف پہلے ون ڈے انٹرنیشنل سے کچھ دیر قبل سیریز منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو واپس بلالیا تھا، جس کیلئے سیکیورٹی خدشات کو بہانہ بنایا گیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More