ای وی ایم قابل استعمال ہے بھی یا نہیں، تفصیلات سامنے آگئیں

بول نیوز  |  Sep 22, 2021

ای وی ایم قابل استعمال ہے بھی یا نہیں، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں ای وی ایم کی خریداری پر 150 ارب سے زائد کے اخراجات آئیں گے ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ای وی ایم حکومت نے خود نہیں بنائی، ریپیڈو کمپنی سے بنی ہے،حکومتی مشین دیگر کمپنیوں کی مشینوں سے انتہائی کم محفوظ ہے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ حکومتی مشین جدید ٹیکنالوجی سے لیس نہیں ہے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات میں 20 سے 25 ارب اخراجات آئے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ای وی ایم کے استعمال کے لیے لمبے عرصے تک بڑی تعداد میں افراد کو ٹریننگ کی ضرورت ہو گی جبکہ ای وی ایم کے ہر بوتھ پر استعمال کے لیے الگ مین پاور کی ضرورت ہو گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہر پولنگ بوتھ پر پریذائیڈنگ افسران اور سٹاف کو مکمل ٹرینڈ کرنا مشکل مرحلہ ہو گا جبکہ ہر پولنگ سٹیشن پر 2 سے 3 آئی ٹی کے افراد تعینات کرنا ہوں گے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ گزشتہ الیکشن میں 86 ہزار پولنگ سٹیشن بنے، جبکہ آئندہ الیکشن میں 1 لاکھ پولنگ سٹیشن ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ کم سے کم 2 سے 3 لاکھ آئی ٹی ماہرین کی ضرورت پڑے گی ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ گزشتہ الیکشن میں پولنگ بوتھ 2 لاکھ 40 ہزار، جبکہ آئندہ الیکشن میں 3 لاکھ ہونے کا امکان ہے ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہر پولنگ بوتھ پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے الگ الگ مشین رکھنا پڑی گییں تھیں ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ حلقہ میں 20 امیدواروں کے زیادہ ہونے سے ایک الگ مشین رکھنا پڑے گی ،انتخابات میں تقریبا آدھے حلقوں میں 20 سے زیادہ امیدوار سامنے آتے ہیں، جبکہ ایسی صورت میں کم سے کم ایک لاکھ اضافی مشینیں خریدنا پڑیں گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مشینوں کے اچانک خراب ہونے کے خطرے کے پیش نظر 1 لاکھ ایکسٹرا مشینیں لینا ہوں گی جبکہ کم سے کم 8 لاکھ ای وی ایم مشینیں خریدنا ہوں گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ 1 مشین کی لاگت ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے آئے گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اربوں روپے مالیت کی ای وی ایم اگلے انتخابات میں استعمال ہو سکے گی، سوالیہ نشان ہے ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین بلدیاتی انتخابات میں استعمال نہیں ہو سکیں گی کیونکہ کے پی بلدیاتی انتخابات میں 7 بیلیٹ پیپر استعمال ہوتے ہیں ،اس کے لیے 7 مشینیں لگانا پڑیں گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اور عام انتخابات الگ الگ طریقے سے کروانا سوالیہ نشان ہو گا۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ایک الیکشن کے لیے اربوں روپے کے اخراجات فضول ایکسرسائز ہو گی، اتنی بڑی تعداد میں ای وی ایم مشینوں کو کہاں رکھا جائے گا، ڈیٹا سنٹر ہی موجود نہیں ہے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ڈیٹا سنٹر کے قیام اور مشینوں کو سنبھالنے پر اربوں روپے سالانہ اخراجات آئیں گے، جبکہ ای وی ایم مشینوں کو ہر جگہ پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹیشن چارجز الگ آئیں گے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہر جگہ باحفاظت مشینوں کو لے جانا اور واپس لانا بڑا چیلینج ہے ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ دور دراز علاقوں میں مشین خراب ہونے کی صورت میں فوری جہاز کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے جبکہ مشینوں کو پہنچانے کے لیے کئی جہازوں کی ضرورت پڑے گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انڈیا میں ای وی ایم کمپنیوں کے پاس اپنے ہیلی کاپٹرز موجودہ ہیں۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ای وی ایم کی چپ گم ہو جانے سے نتائج تبدیل ہونے کا خدشہ ہے ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی میں جدت آنے سے موجودہ 2028 کے الیکشن میں مشین دوبارہ استعمال نہیں ہو سکے گی ۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ روایتی طریقے سے بیلیٹ پیپر خراب ہونے سے ووٹر کو نیا بیلیٹ پیپر جاری کیا جاتا تھا جبکہ مشین پر غلط ووٹ کاسٹ ہونے پر دوبارہ ووٹر کو سہولت ختم ہو جائے گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ غلط ووٹ کاسٹ ہونے پر ووٹر کو دوبارہ مطمئن نہیں کیا جا سکے گا۔

Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More