یو ایس بی ٹائپ سی: یورپی یونین کا تمام سمارٹ فونز کے لیے ایک چارجر کا حکم کیوں؟

بی بی سی اردو  |  Sep 27, 2021

چارجنگ
BBC

یورپی کمیشن کے تجویز کردہ ایک نئے قانون کے تحت تمام فون اور چھوٹے الیکٹرانک آلات بنانے والی کمپنیاں اس پر مجبور ہوں گی کہ وہ یکساں چارجنگ کی سہولت فراہم کریں۔

اس کا مقصد کوڑا کرکٹ کم کرنا ہے اور صارفین کو اس بات کی ترغیب دینا ہے کہ وہ نئی ڈیوائس خریدیں تو پرانے چارجر کو ہی استعمال کریں۔

تجویز میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک میں بکنے والے تمام سمارٹ فونز میں یو ایس بی ٹائپ سی چارجر ہونے چاہیے۔

مگر ایپل نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کا اقدام جدت کو نقصان دے گا اور اس سے یورپ کے علاوہ پوری دنیا کے صارفین کو نقصان ہوگا۔ ان کے مطابق ان کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایپل ڈیوائس سنہ 2030 تک کاربن فری ہو جائے۔

بہت سے اینڈ رائیڈ فونز مائیکرو بی چارجنگ پورٹ کے ساتھ دستیاب ہوتے ہیں یا اب جدید یو ایس بی سی معیار کی جانب جا چکے ہیں۔

آئی پیڈ اور میک بک میں یو ایس بی سی چارجنگ پورٹ ہیں۔ اور اعلیٰ درجے کے سمارٹ فون ماڈلز میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے جیسے سام سنگ اور ہواوے کے جدید فون۔

چارجر
BBC

یہ تبدیلیاں ڈیوائس کی باڈی میں موجود چارجنگ پورٹ میں لاگو ہوں گی۔ جبکہ کیبل جس پلگ کے ساتھ لگے گی وہ یو ایس بی سی یا یو ایس بی اے ہو سکتا ہے۔

سنہ 2019 میں کمیشن کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ 2018 میں یورپی یونین میں فروخت ہونے والے تقریباً نصف چارجرز یو ایس بی مائیکرو بی کنیکٹرز تھے جبکہ 29 فیصد کا یو ایس بی سی کنیکٹر اور 21 فیصد لائٹننگ کنیکٹر تھا۔

تجویز شدہ قوانین درج ذیل اشیا پر لاگو ہو گے:

  • سمارٹ فون
  • ٹیبلیٹ
  • کیمرے
  • ہیڈ فونز
  • پورٹ ایبل سپیکرز
  • ہینڈ ہیلڈ ویڈیو گیم کنسول جیسے پلے شٹیشن یا ایکس باکس

یہ بھی پڑھیے

ایپل کے آئی فون 13 اور سیون سیریز سمارٹ واچ میں کون کون سے نئے فیچرز ہیں؟

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی: ’انڈیا نے عمران خان کا نمبر بطور ’پرسن آف انٹرسٹ‘ منتخب کیا تھا‘

’خواب بیچنے کی ماہر‘ ایلزبتھ ہومز: کیا تھیرانوس سکینڈل نے سیلیکون ویلی کو ہلا کر رکھ دیا؟

دیگر مصنوعات میں ایئر بڈز، سمارٹ واچ اور فٹنس ٹریکرز کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر شامل نہیں کیا گیا۔

تجویز تیز رفتار چارجنگ کو معیاری بناتی ہے۔ مطلب یہ کہ جو ڈیوائس تیز چارجنگ کی صلاحیت رکھتی ہے وہ ایک ہی جتنی تیز رفتار کے ساتھ چارجنگ کرے گی۔

ایپل چارجر
BBC

کچرے سے بچاؤ

یورپی یونین کے سائنسدان ایک دہائی سے مشترکہ معیار کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ کمیشن کی تحقیق میں یہ اندازا لگایا گیا ہے کہ ہر سال پھینک دی گئی اور استعمال نہ کی گئی چارجنگ کیبلز کی وجہ سے سالانہ 11000 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔

یورپی یونین میں گذشتہ برس 420 ملین موبائل فونز اور آسانی سے منتقل ہونے والی الیکٹرانک ڈیوائسز گذشتہ ایک برس کے دوران فروخت ہوئیں۔

ایک عام صارف کے پاس تین موبائل فون چارجرز ہوتے ہیں جن میں سے وہ متواتر دو چارجر استعمال کرتا ہے۔

سنہ 2009 میں 30 مختلف قسم کے چارجر تھے جبکہ اب زیادہ تر ماڈلز تین قسم کے چارجر پر اکتفا کر رہے ہیں۔ ان میں یو ایس بی سی، لائٹننگ اور یو ایس بی مائیکرو بی شامل ہیں۔

سی سی ایس کے تجزیہ کار بین ووڈ کا کہنا ہے کہ ایک جیسے چارجر کا استعمال صارفین کی نظر میں ایک کامیابی ہو گی۔

’اگرچہ ایپل نے ایک اپنے لائٹننگ کنیکٹر کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط دلیل دی ہے۔ آئی فون کو استعمال کرنے والے ایک بلین فعال صارفین کو آئی پیڈ اور میک سمیت اپنے کچھ پراڈکٹس میں یو ایس بی سی کا کنیکشن دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اگر ایپل اپنی زیادہ سے زیادہ ڈیوائسز میں یو ایس بی سی کو شامل کرتا رہے گا تو بالآخر یہ ایک غیر اہم معاملہ رہ جائے گا۔‘

خیال ہے کہ ان تجاویز پر لاگو ہونے سے پہلے شاید کچھ سال لگ جائیں۔

قانون سازی کا پرپوزل، جو ہدایت نامہ کہلاتا ہے، پر یورپی پارلیمان اور قومی حکومتوں میں بحث کی جائے گی۔

ایم ای پیز اور ممبر ریاستیں شاید اس پرپوزل میں ترامیم کا کہیں۔ اگر یورپی کمیشن ترمیم پر رضامندی ہو صرف تب یہ احکامات لاگو ہوں گے۔

یورپی کمیشن کو امید ہے کہ یہ سنہ 2022 میں لاگو ہو جائے گا جس کے بعد ملکی قانون میں ممبر ریاستیں اسے دو سال بعد شامل کر لیں گی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کے پاس چارجنگ پورٹس کی تبدیلی کے لیے 24 ماہ ہوں گے۔

کمیشن کے نائب صدر مارگریتھ ویسٹیجر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے انڈسٹری کو بہت وقت دیا تھا کہ وہ اپنا حل لے کر آئیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عام چارجر کے استعمال کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ یہ ایک اہم کامیابی ہے ہمارے صارفین کے لیے اور ماحول کو سرسبز رکھنے کے لیے ہمارے ڈیجیٹل مقاصد کے لیے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More