’آریان کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ شاہ رخ کے بیٹے ہیں‘

اردو نیوز  |  Oct 13, 2021

انڈین اداکار و سیاستدان شتروگھن سنہا بھی بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے صاحبزادے آریان خان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور انہوں نے آریان خان کو کروزشپ کیس میں ’استعمال‘ کیے جانے کے طریقے پر تنقید کی ہے۔

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق شتروگھن سنہا کا کہنا ہے کہ آریان کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ شاہ رخ خان کے بیٹے ہیں۔ ’ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کا مذہب اس کی وجہ ہے لیکن کچھ لوگ اب اس پر بھی بات کرنے لگے ہیں جو کہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جو کوئی بھی انڈین شہری ہے وہ انڈیا کا بیٹا ہے اور ہمارے آئین کے تحت سب برابر ہیں۔ جس طرح لڑکے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے شاہ رخ بالکل اس کی وجہ ہیں۔ اس (کیس) میں منمن دھامیچا اور ارباز مارچنٹ جیسے دیگر نام بھی ہیں لیکن کوئی ان کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے دیپکا پاڈوکون ایسے ہی کیس میں توجہ کا مرکز بنی رہیں حالانکہ دوسرے نام بھی ملوث تھے۔

شتروگھن سنہا نے بالی وڈ انڈسٹری کو ’ڈرپوک لوگوں کا گروہ‘ قرار دیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس معاملے میں انڈسٹری کے لوگوں نے چپ کیوں سادھ رکھی ہے تو شتروگھن سنہا کا کہنا تھا کہ ’اگر بالی وڈ کا کوئی شخص کچھ کہے گا تو کیا حکومت اس کے اثرات سے نمٹ سکے گی؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’کیا آپ نے ایسا کچھ دلیپ کمار، امیتابھ بچن، دیو آنند یا میرے بارے میں سنا؟ کچھ واقعات تھے اور یہ سب الزامات تھے، کچھ بھی ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا۔ لہٰذا یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ بہت سی اچھی چیزوں کے ساتھ فلم انڈسٹری میں ایک واحد خامی ہے کہ یہ متحد نہیں، اس کا اپنا پلیٹ فارم نہیں ہے۔ کبھی کبھی خودغرضانہ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔‘

خیال رہے کہ آریان خان کو گذشتہ ہفتے کی شب سنٹرل ایجنسی نے ممبئی سے ایک جہاز پر چھاپہ مارنے کے بعد گرفتار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے منشیات ملی ہیں۔ ممبئی کی ایک عدالت نے آٹھ اکتوبر کو ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ ان کی درخواست ضمانت پر بدھ کو سماعت ہوگی.

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More