کیا محمدبن سلمان، شاہ عبداللہ کو زہر دینا چاہتے تھے؟

سماء نیوز  |  Oct 25, 2021

سابق سعودی انٹیلی جنس عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان نے 2014ء میں کہا تھا کہ وہ سعودی شاہ عبداللہ کو مارنے کیلئے روس سے زہر کی انگوٹھی لے سکتے ہیں۔

غیر ملکی میں سعودی عرب کے سابق سینئر انٹیلی جنس عہدیدار جس نے دہشت گردی کے خلاف امریکا کے ساتھ کام کیا تھا، نے بتایا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2014ء میں اس وقت کے بادشاہ (شاہ عبداللہ) کو قتل کرنے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں جلاوطن سعد الجابری (جسے سعودی حکام “ایک بدنام سرکاری افسر” کے طور پر بیان کرتے ہیں) نے دعویٰ کیا کہ ایم بی ایس (محمد بن سلمان) کے نام سے جانے جانیوالے ولی عہد نے مبینہ طور پر اپنی شہزادہ محمد بن نائف سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ’’روس سے زہر کی انگوٹھی‘‘ حاصل کرسکتے ہیں تاکہ شاہ کو قتل کرکے اپنے والد کو تخت پر بٹھاسکیں۔ یہ سعودی ولی عہد پر لگائے گئے غیر ثابت شدہ دیگر الزامات میں سے ایک ہے۔ محمد بن نائف کو بعد ازاں وزارت داخلہ میں انٹیلی جنس کا سربراہ مقرر کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سعد الجابری نے اپنے الزامات سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کئے تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملاقات کی ایک ویڈیو ریکارڈنگ دیکھی تھی جو اب بھی موجود ہے۔

الجابری نے مزید الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ وہ (محمد بن سلمان) انہیں کینیڈا میں قتل کرنے کی سازش کررہے ہیں، جہاں وہ جمال خاشقجی کے 2018ء میں قتل کے چند ہفتوں بعد سے مقیم ہے۔

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جنوری 2015ء میں علالت کے باعث انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد ان کے بھائی اور موجودہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے تخت پر براجمان ہوئے۔

سعد الجابری کے مطابق محمد بن سلمان نے محمد بن نائف سے کہا تھا کہ میں شاہ عبداللہ کو قتل کرنا چاہتا ہوں، مجھے روس سے زہر کی انگوٹھی چاہئے، میرے لئے اتنا ہی کافی ہو کہ میں ان سے مصافحہ کروں۔ سعودی انٹیلی جنس نے اس دھمکی کو کافی سنجیدگی سے لیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق الجابری نے اپنے الزامات کے ثبوت کے طور پر ایک بے آواز ویڈیو کلپ مہیا کیا ہے، جس سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں قتل کردیا جائے تو یہ جاری کردی جائے، جس میں ان کے زیر حراست بچوں کیلئے بھی ایک پیغام بھی موجود ہے۔

سعد الجابر نے انٹرویو کے دوران امریکا کی بائیڈن انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی آزادی کیلئے مدد کرے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More