سعودی عرب کا پاکستان کے لیے چار ارب 20 کروڑ ڈالر قرض کا اعلان

بی بی سی اردو  |  Oct 27, 2021

محمد بن سلمان اور عمران خان (فائل فوٹو)
Getty Images
سعودی عرب کی جانب سے اس 'معاشی پیکیج' کا اعلان پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے بعد کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو سالانہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل دینے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس تیل کے لیے پاکستان کو فوری ادائیگی بھی نہیں کرنا ہو گی بلکہ یہ موخر ادائیگی کی سہولت کے تحت دستیاب ہو گا۔

حماد اظہر کے مطابق سعودی ترقیاتی فنڈ کے ان اقدامات سے قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے کی وجہ سے پاکستان کی تجارت اور زرِمبادلہ کے اکاؤنٹس پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے تنزلی دیکھی جا رہی ہے اور صرف چار ماہ میں ڈالر کی قدر میں 20 روپے سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی ترقیاتی فنڈ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہی ہدایت پر پاکستان کے مرکزی بینک میں تین ارب ڈالر جمع کروائے جائیں گے تاکہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور حکومت کو کورونا کی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

https://twitter.com/Hammad_Azhar/status/1453084389177397248

سعودی ترقیاتی فنڈ کے مطابق شاہی ہدایت پر پاکستان کو تیل کی میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کا فنڈ بھی ایک سال کے دوران فراہم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس ’معاشی پیکیج‘ کا اعلان پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے بعد کیا گیا ہے۔

عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر رواں ہفتے سعودی عرب کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی سہولت بھی پہلی بار نہیں دی جا رہی اور ماضی میں بھی پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے یہ سہولت فراہم کی جاتی رہی ہے۔

اس سے قبل 1998 میں جب ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں تو پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ اس صورتحال میں سعودی عرب نے اس وقت بھی پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ کا تیل ادھار دینا شروع کیا تھا۔

اسی طرح 2014 میں جب غیر ملکی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو زر مبادلہ کی ضرورت تھی تو اس وقت سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر نقد پاکستان کو دیے تھے جنھیں زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

تیل
Getty Images
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی سہولت بھی پہلی بار نہیں دی جا رہی

تحریک انصاف کے دور حکومت میں یہ تیسرا موقع ہے جب سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سنہ 2018 کے اواخر میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو زرمبادلہ ذخائر کے مستحکم رکھنے کے لیے تین ارب ڈالر فراہم کیے گئے تو اس کے ساتھ تین سال تک مؤخر ادائیگیوں پر تقریباً نو ارب ڈالر مالیت تک کا تیل دینے کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو نو ماہ تک ماہانہ ساڑھے 27 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل فراہم کیا بھی گیا لیکن اچانک سعودی عرب نے یہ سہولت معطل کر دی تھی۔

اس کے بعد رواں برس جون میں وزیر توانائی حماد اظہر اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ریونیو وقار مسعود نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے ایک سال کی مؤخر ادائیگی پر 1.5 ارب ڈالر کا تیل فراہم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے دس ارب ڈالر تک مصنوعات بیرونِ ملک سے منگواتا ہے اور آر ایل این جی کی درآمد سے توانائی کے شعبے کی درآمدات 14 سے 15 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More