تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ: پنجاب میں رینجرز تعینات، حکومت کا کالعدم تنظیم سے ’عسکریت پسند‘ گروہ کے طور پر نمٹنے کا فیصلہ

بی بی سی اردو  |  Oct 27, 2021

رینجرز
Reuters
شیخ رشید کے مطابق صوبائی حکومت دو ماہ تک جہاں چاہے رینجرز کو استعمال کر سکتی ہے

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے والی کالعدم مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان سے ایک 'عسکریت پسند گروہ' کے طور پر نمٹا جائے گا۔

ادھر پنجاب میں اس لانگ مارچ کی وجہ سے پیدا ہونے والی امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے دو ماہ کے عرصے کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

جمعے کو لاہور سے شروع ہونے والا تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ اس وقت ضلع گوجرانوالہ میں کامونکی کے مقام پر موجود ہے اور اب تک پولیس سے اس قافلے کے شرکا کی پرتشدد جھڑپوں میں چار پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت حکومتِ پنجاب کی درخواست پر کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت دو ماہ تک جہاں چاہے انھیں استعمال کر سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی شق پانچ کے استعمال کا بھی اختیار دے دیا گیا ہے جس کے تحت نیم عسکری اداروں کو ’دہشتگردی‘ کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شیخ رشید نے تحریکِ لبیک سے احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسا نہ ہو کہ اُن کی تنظیم پر بین الاقوامی پابندی لگ جائے اور وہ دہشتگردوں کی فہرست میں آ جائیں کیونکہ ایسا ہونے پر ان کے مقدمات پاکستان کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے۔

شیخ رشید
Getty Images

’ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے‘

شیخ رشید احمد نے تحریکِ لبیک پاکستان کی جانب سے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے پر کہا کہ پاکستان میں فرانس کا سفیر موجود نہیں ہے، تاہم ’ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ وہ اب بھی تحریکِ لبیک سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ لوگ واپس چلے جائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میں تعینات رینجرز کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ پانچ کے تحت پولیسنگ کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔

اس قانون کے تحت مسلح افواج یا نیم عسکری ادارے (رینجرز، فرنٹیئر کور) کو پولیس کے اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جنھیں استعمال کرتے ہوئے پولیس، فوجی یا نیم عسکری اہلکار 'دہشتگردانہ اقدامات' یا انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں موجود جرائم کو روکنے کے لیے فائرنگ کر سکتے ہیں، بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکتے ہیں اور تلاشی، کسی کی گرفتاری یا اسلحے وغیرہ کی ضبطگی کے لیے بغیر وارنٹ کسی جگہ پر داخل ہو سکتے ہیں۔

’ٹی ایل پی ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں کر سکتی‘

اس سے قبل وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومتی فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں کر سکتی۔

اُنھوں نے بتایا کہ فوج، انٹیلیجنس اداروں اور متعلقہ حکام کی مشاورت سے ’واضح پالیسی فیصلہ‘ لیا گیا ہے کہ تحریکِ لبیک کو عسکریت پسند گروہ تصور کیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ’باقی دہشتگرد تنظیموں کا جیسا خاتمہ ہوا ہے‘ ٹی ایل پی کے ساتھ بھی وہی کیا جائے گا۔

اُنھوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے ٹی ایل پی کو الیکشن لڑنے کی اجازت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کا ’فرض ہے کہ اپنا کردار ادا کریں۔‘

’کہیں طاقت کا استعمال نہیں ہوا‘

وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت نے برداشت کا مظاہرہ کیا ہے نہ ہی کہیں طاقت کا استعمال کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر جو لوگ مہم چلا رہے ہیں اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں وہ اپنے رویوں پر ابھی نظرِثانی کر لیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ان میں کچھ لوگ میڈیا کے بھی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جعلی خبروں کے کلچر کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ’پاکستان کی ریاست کی عزت‘ اور ’شہریوں کی زندگی کا سوال ہے۔‘

’دہشتگردی کا ٹھپہ لگانے والے مقتدر حلقے اپنے گریبان میں جھانکیں‘

دوسری جانب تحریکِ لبیک پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت اپنے وعدوں سے پھر گئی اور پھر تشدد کا راستہ اپنایا ہے۔

پاکستانی وزرا کی پریس کانفرسوں پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ ’تحریک پر دہشتگردی کا ٹھپہ لگانے والے مقتدر حلقے اپنے گریبان میں جھانکیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’قوم کو کہتے ہیں مذاکرات کر رہے ہیں ہمارے ساتھ رابطہ تک نہیں کیا جا رہا۔‘حکومت کی جانب سے تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں کلاشنکوف کے استعمال کے الزامات کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ وہ نہتے ہیں۔ اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی اور فرانس سے پاکستان کے سفیر کو واپس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ٹی ایل پی کا مارچ کامونکی پہنچ گیا

کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے وفاقی حکومت سے مذاکرات میں ناکامی کا دعویٰ کرتے ہوئے بدھ کو ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا اور اس وقت یہ قافلہ جی ٹی روڈ پر مریدکے سے نکل کر کامونکی پہنچ گیا ہے اور پولیس کی جانب سے اس کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لانگ مارچ میں شامل تحریکِ لبیک کے رہنما مفتی عمیر نے بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے کارکنوں نے سادھوکی کے مقام پر موجود تمام رکاوٹیں ہٹائیں اور آگے بڑھ گئے۔

نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق لانگ مارچ کے دوبارہ آغاز کے بعد سادھوکی کے مقام پر پولیس نے اس قافلے کے شرکا کو ایک مرتبہ پھر روکنے کی کوشش کی اور اس کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس دوران پولیس اہلکاروں اور تحریکِ لبیک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جبکہ کارکنوں نے مبینہ طور پر پولیس کی کم از کم سات گاڑیوں کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

تحریک لبیک
EPA

پولیس کے ترجمان کے مطابق بدھ کو تازہ جھڑپوں میں قصور پولیس سے تعلق رکھنے والے اے ایس آئی اکبر ہلاک اور 64 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ گوجرانوالہ پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

تحریکِ لبیک کی جانب سے بھی اپنے دس سے زیادہ کارکنوں کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تحریکِ لبیک کی جانب سے پولیس پر فائرنگ کرنے اور تیزاب سے بھری بوتلیں پھینکنے کے الزاماتبھی لگائے گئے ہیں۔

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے پر عملدرآمد اور تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے مطالبات کو لے کر تحریک لبیک نے 22 اکتوبر کو لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا جو 23 اکتوبر کی شب ضلع گوجرانوالہ میں مریدکے کے علاقے میں پہنچا تھا۔

حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ابتدائی مذاکرات کے بعد تحریکِ لبیک کی شوریٰ نے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو 26 اکتوبر کی شام تک کی مہلت دیتے ہوئے مریدکے میں قیام کا اعلان کیا تھا۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ کے رکن مفتی عمیر الاظہری نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے مطالبات پورے نہ ہونے کے بعد جماعت کی شوریٰ نے بدھ کی صبح کارکنوں کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے احکامات جاری کیے جس کے بعد ہزاروں کارکنوں نے جی ٹی روڈ پر مریدکے سے اسلام اباد کی طرف سفر شروع کر دیا۔

پولیس
EPA
اسلام آباد میں فرانسیسی سفارتخانے کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہیں

سڑکوں پر رکاوٹیں، راستے اور انٹرنیٹ بند

لانگ مارچ کی وجہ سے ضلع گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

اس قافلے کو روکنے کے لیے اسلام آباد کی جانب جانے والی شاہراہوں پر بھی جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ سادھوکی کے قریب سڑک پر بڑے بڑے گڑھے کھود کر راستے مسدود کیے گئے ہیں۔ سادھوکی جی ٹی روڈ پہلے ہی سے مٹی سے بھرے کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی تھی۔

منگل کی شام سے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی وخارجی راستوں پر دوبارہ کینٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ رکاوٹیں اس وقت عارضی طور پر ہٹانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جب حکومت اور ٹی ایل پی میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔

وفاقی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد و راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد چوک کو چاروں جانب کنٹینرز لگا پر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی کی اہم شاہراہ مری روڈ پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں۔

دونوں شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے پولیس و رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

شہری انتظامیہ کے مطابق بدھ کی صبح سے جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس بند کرنے اور موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More