سال کا دوسرا چاند گرہن کب ہوگا

سماء نیوز  |  Nov 18, 2021

رواں سال کے دوسرے اور آخری چاند گرہن کا خوبصورت نظارہ آج 19 نومبر کیا جائے گا، تاہم پاکستان میں چاند گرہن نظر نہیں آئے گا۔ گرہن کی زیادہ سے زیادہ سطح 97 فیصد تک جائے گی۔

اگر آپ پاکستان کے بجائے کسی یوریی ملک یا امریکا میں مقیم ہیں تو آپ یقیناً اس دلفریب نظارے سے ضرور لطف اندوز ہوسکیں گے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ آس پاس کا ماحول پرسکون، فضا میں خاموشی اور ہاتھ میں کیمرا یا گرما گرم کافی کا کپ ہو، تاکہ اس رومانوی منظر کا ایک ایک عکس ایک یادگار لمحے کی طرح آپ کی آنکھوں میں قید ہوسکے۔

  کے مطابق دنیا کے بڑے حصے میں جزوی چاند گرہن کا نظارہ کیا جاسکے گا، جس میں شمالی و جنوبی امریکا، آسٹریلیا، یورپ مشرقی ایشیا سمیت شمال اور مغربی افریقا شامل ہیں تاہم پاکستان میں چاند گرہن نظر نہیں آئے گا۔ گرہن کا دورانیہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق سال کے دوسرے چاند گرہن کا آغاز پاکستان میں 19 نومبر کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 2 منٹ پر ہوگا۔ جزوی چاند گرہن کا اختتام دوپہر 3 بج کر 47 منٹ جب کہ مکمل خاتمہ 5 بج کر4 منٹ پر ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 600 سال بعد یہ طویل ترین جزوی چاند گرہن ہوگا۔

ناسا کے مطابق اگلا چاند گرہن 16 مئی 2022 میں دیکھا جاسکے گا۔ اس میں بھی چاند کا رنگ سرخ ہوگا۔

گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟گرہن ایک شاندار دلکش فلکیاتی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرہن کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے سیاحت کی ایک الگ برانچ قائم ہو چکی ہے۔

چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا۔

دوسرے لفظوں میں چاند گرہن کے دوران ہمیں زمین کا سایہ چاند پر پڑتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

تاہم گرہن کی متعدد اقسام میں سے یہ جزوی گرہن ایک ہے۔

جزوی گرہن کیا ہوتا ہےجس طرح اس کے نام سے ظاہر ہے اس گرہن کے دوران چاند پوری طرح نہیں چھپتا ہے اور صرف چاند کا کچھ حصہ ہی زمین کے سائے میں آتا ہے۔

گرہن کی نوعیت کتنے گہرے سرخ رنگ یا خاکی اور زنگ کے رنگ کی طرح ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ زمین کا عکس چاند کی تاریک سطح پر کسی طرح پڑتا ہے۔

چاند کے تاریک اور روشن حصے کے تضاد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ چاند کا روشن حصہ پر تو سائے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور کی چمک برقرار رہتی ہے لیکن زمین کے سائے میں آنے والا حصہ تاریک ہو جاتا ہے۔

ناسا کے مطابق مکمل چاند گرہن کبھی کبھار ہی ہوتا ہے لیکن جزوی گرہن سال میں 2  مرتبہ ہوتا ہے۔

خفیف سا چاند گرہنیہ گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین کے خفیف سے سائے کے نیچے سے گزرتا ہے جو کہ بہت ہلکہ سا سایہ ہوتا ہے۔

یہ گرہن اتنے ہلکے سے ہوتے ہیں کہ ان کا انسانی آنکھ سے دیکھے جانے کا امکان اس بات پر ہوتا کہ چاند کا کتنا حصہ اس عکس کے نیچے آتا ہے۔ جتنا کم حصہ اس سائِ میں آتا ہے اتنا ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ زمین پر کسی انسان کو دکھائی دے۔

یہ وجہ ہے کہ اس طرح کے گرہن کا کیلینڈر میں ذکر نہیں کیا جاتا خاص طور پر ان کیلینڈروں میں جو سائنسدانوں کے علاوہ عام لوگ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

سٹیلر گرہنصرف چاند اور سورج ہی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا کائنات کے دور دراز ستارے بھی گرہن میں جا سکتے ہیں۔

بیمن اپنی کتاب ’السٹریٹڈ ایسٹرونومی‘ جو آن لائن پر مفت میں دستیاب ہے اس میں وجہ لکھتے ہیں پچاس فیصد ستارے دو یا دو سے زیادہ کے جھنڈ میں ہوتے ہیں

کیونکہ ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں ان میں بہت سے ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہیں جو ہماری زمین کی لائن میں آتے ہیں لہذا کسی نہ کسی مدار میں کوئی ستارہ کسی اور ستارے کے آگے آ کر اس کو تاریک کرتا رہتا ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’السٹریٹڈ ایسٹرونمی‘ کے مصنف یوان کارلوس بیامن جو اٹانومس یونیورسٹی آف چلی کے سائنس کمیونیکیشن سینٹر میں بطور ایسٹروفزسٹ کام کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ ’عمومی طور گرہن کی دو اقسام ہیں جن میں چاند اور سورج کے گرہن شامل ہیں۔‘

تاہم اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ’تکنیکی اعتبار سے دیکھیں تو ایک تیسری قسم بھی ہیں، جس میں دو ستارے شامل ہوتے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More