طالبان حکومت کا امریکا کے نام اہم پیغام

سماء نیوز  |  Nov 18, 2021

افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ امیرخان متقی نے امریکی کانگرس کے نام ایک اہم پیغام جاری کیا ہے جسے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے پڑھ کر سنایا۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر بھیجے گئے اس کھلے خط میں کہا گیا کہ افغانستان کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ غیر متوقع ہے اور اب اس کا جواز بھی نہیں ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دوحا امن معاہدہ 20 سالہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طے پایا ہے اور اس معاہدے کا احترام کیا جانا چاہیے جس سے مثبت تعلقات کی راہ ہموار ہو گی۔

ترجمان عبدالقہار بلخی کا مزید کہنا تھا کہ دوحا معاہدہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقات کا موجب بن سکتا ہے اور اس پر عملدرآمد دونوں ریاستوں اور اقوام کے درمیان مثبت تعلقات کا ایک نیا باب کھول سکتا ہے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ ایک معاہدے کی بنیاد پر کابل میں داخل ہوتی لیکن پچھلی حکومت کے اہلکاروں نے طاقت کا خلا پیدا کر دیا تھا اور وہ ہر چیز پر قبضہ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

خط میں عالمی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا اور امریکا سے افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تعمیر اور ترقی کے لیے اب تمام مواقع دستیاب ہیں، مستقبل میں امریکہ افغانستان کی صنعت، زراعت اور کان کنی میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔

عبدالقہار بلخی کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی برادری اور امریکا کے خدشات کو سمجھتے ہیں ہمیں باہمی اعتماد کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی رقم کو منجمد کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ امریکی عوام کی مرضی ہے، اس لیے آپ کی حکومت کو یہ رقم جاری کرنی چاہیے۔

اس کھلے خط کے آخر میں افغان طالبان نے دنیا کو خبردار کیا ہے طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کو نہ صرف خطے میں بلکہ پورے دنیا کو مہاجرین کا بحران بھگتنا پڑے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More