انڈیا کا کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کا اعلان

اردو نیوز  |  Nov 24, 2021

انڈیا کی پارلیمان نے منگل کو رات گئے اعلان کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے استعمال پر پابندی اور مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کے لیے فریم ورک تیار کرنے کی غرض سے بل متعارف کرایا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا کے ایوان نمائندگان لوک سبھا میں مجوزہ بل لایا جائے گا جس کے ذریعے کرپٹو کرنسی کے نجی استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ ہفتے کرپٹو کرنسی یعنی بٹ کوائن کے حوالے سے خبردار کیا تھا کہ اس کا استعمال نوجوان نسل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

انڈیا سے قبل چین نے ستمبر میں کرپٹو کرنسی کا استعمال غیر قانونی قرار دیا تھا۔

اپریل میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے بٹ کوائن پر عائد پابندی ختم کر دی تھی، جس کے بعد اس کی مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی تھی۔ پچھلے سال کے مقابلے میں انڈیا میں بٹ کوائن کی مارکیٹ میں 600 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

ایشیا کی تیسری بڑی معیشت انڈیا میں ڈیڑھ کروڑ سے 10 کروڑ کے درمیان شہری کرپٹو کرنسی کے مالک ہیں جس کی کل مالیت کروڑوں ڈالر بنتی ہے۔

ممکنہ پابندی کے بعد انڈین شہریوں کی کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

دوسری جانب انڈیا کے مرکزی بینک نے کرپٹو کرنسی کے نجی استعمال پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ سال کے آخر تک اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروا دے گا۔

کرپٹو کرنسی سے متعلق مجوزہ بل نئے پارلیمانی سیشن میں پیش کیا جائے گا جس میں کچھ حد تک کرپٹو کرنسی کی ٹیکنالوجی کے فروغ کی اجازت ہوگی۔

منگل کو بٹ کوائن کی مارکیٹ میں 1.67 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، تاہم ممکنہ قانون سازی کی خبروں سے کرپٹو کرنسی کے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم ’بٹن ننگ‘ کے بانی کاشف رضا کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کے متعارف ہونے کے اعلان کے بعد خوف پھیل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے بعد کرپٹو کرنسی کی صنعت قدرتی طور پر ہی ختم ہو جائے گی اور سرمایہ کاروں کو نقصان ہو گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More