’تیری بانہوں میں مر جاؤں‘: پریانکا کی طلاق کی افواہوں میں کتنی صداقت ہے؟

اردو نیوز  |  Nov 24, 2021

بالی وڈ کے بعد آج کل ہالی وڈ میں بڑے پردے پر کام کرنے والی انڈین اداکارہ پریانکا چوپڑا نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر اپنے نام سے ’چوپڑا جونس‘ ہٹا دیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ امریکی اداکار نک جونس اور ان کے رشتے میں کچھ دوریاں آ گئی ہیں۔

ان افواہوں کی وجہ سے انڈین اداکارہ پریانکا چوپڑا اور ان کے شوہر نک جونس کا نام ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کی کیانو ریوز کے ساتھ فلم ’دا میٹرکس: ریسریکشن‘ کا نیا پوسٹر بھی حال ہی میں ریلیز ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ اکاؤنٹس نے تو پریانکا چوپڑا کے اپنے اکاؤنٹس سے ’سرنیم‘ ہٹانے کی بات کا ایسا بتنگڑ بنایا کہ بات طلاق تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب پریانکا چوپڑا اور نک جونس نے افواہوں پر چپ سادھ رکھی ہے تاہم انڈین اداکارہ نے انسٹاگرام پر نک جونس کی ایکسرسائز کی ویڈیو پر محبت بھرا پیغام لکھا جس سے یہ پتہ لگانا مشکل نہیں کہ طلاق کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔نک جونس کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے پریانکا چوپڑا نے لکھا ’میں تیری بانہوں میں مر جاؤں۔‘

اس حوالے سے ٹویٹر پر میرا نامی صارف نے لکھا ’میں نے افواہیں سنی ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور جونس ایک دوسرے سے طلاق لے رہے ہیں؟ کیا یہ سچ ہے؟‘

سوشل میڈیا پر صارفین ایک بڑی تعداد اس بات سے نالاں بھی نظر آتی ہے کہ انڈین امریکی جوڑی سے متعلق افواہوں کو میڈیا زیادہ فوقیت دے رہا ہے اور ایسے میں دیگر خبروں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میرے خیال میں یہ میٹرکس: ریسریکشن کی پروموشن کے لیے ہو رہا ہے، شاید ان کا نام اس فلم میں پریانکا ہو۔‘

شروانی نامی ایک اور صارف کا بھی خیال یہی ہے کہ اپنے نام سے ’سر نیم‘ ہٹانا اپنی فلم کی پروموشن کا ایک طریقہ ہے۔

یاد رہے کہ یہ ہالی وڈ کی مشہور ترین سائنس فکشن فلم ’دا میٹرکس‘ سریز کی چوتھی فلم ہے۔

پریانکا چوپڑا اور ان کے شوہر ان افواہوں پر اب تک خاموش ہیں، لیکن پریانکا کی والدہ سے شاید یہ خبریں برداشت نہ ہو سکیں۔

ان کی والدہ مدھو چوپڑا نے انڈین چینل ’نیوز 18‘ سے بات کرتے ہوئے طلاق کی خبروں کی تردید کر دی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More