شعیب اختر کی پی ٹی وی اسپورٹس سے صلح ہوگئی

بول نیوز  |  Nov 25, 2021

سول عدالت نے پی ٹی وی کا شعیب اختر کے خلاف ہرجانے کا دعوی خارج کردیا ہے جبکہ عدالت نے پی ٹی وی کا دعوی واپس لینے کی بنیاد پر خارج کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی نے دعوی میں شعیب اختر کے خلاف لگائے گئے الزامات واپس لے لئے ہیں جس کے بعد سول عدالت نے پی ٹی وی کے شعیب اختر کے خلاف ہرجانے کے دعوی کو خارج کردیا ہے جبکہ ہرجانے کے دعوی کی سماعت سول جج عابد مہر نے کی۔

پی ٹی وی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شعیب اختر کی پی ٹی وی اسپورٹس سے صلح ہو گئی ہے اور شعیب اختر کے خلاف 10 کروڑ 33 لاکھ کے دعوی میں مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔

پی ٹی وی نے موقف اختیار کیا کہ شعیب اختر سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر تجزیہ کے لئے پروگرام کا معاہدہ کیا جس کے تحت شعیب اختر نے 36 پروگرامز میں تجزیہ دینا تھا اوت شعیب اختر معاہدے کے تحت پی ٹی وی کے علاوہ کسی بھی چینل پر تجزیہ نہیں دے سکتے تھے۔

دعوی میں موقف اختیار کیا گیا کہ شعیب اختر نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کے دوران 25 اکتوبر کو 2 نجی چینلز پر تجزیہ دیا اور انہوں نے بیماری کے جواز پر 25 اکتوبر کو پی ٹی وی اسپورٹس پر تجزیہ نہ دینے کا بلاجواز عذر پیش کیا۔

دعوی میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی کرکٹ میں موجودگی کے وقت بھی شعیب اختر ذمہ داریوں سے لاپروائی برتتے رہے ہیں اور شعیب اختر اپنے خراب رویے کے سبب کئی بار قومی ٹیم سے بھی نکالے جا چکے ہیں۔

دعوی میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شعیب اختر نے 26 اکتوبر کو پروگرام اینکر نعمان نیاز سے جھڑپ کو جواز بنا کر آن ایئر پروگرام میں استعفی دے دیا جبکہ شعیب اختر اور پی ٹی وی معاہدہ ختم کرنے سے 3 ماہ قبل نوٹس دینے کے پابند ہیں۔

دعوی میں مزید موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شعیب اختر نے معاہدہ ختم کرنے سے قبل نوٹس نہیں دیا اور نہ ہی 3 ماہ کی رقم ادا کی اور شعیب اختر کے رویے کی وجہ سے پی ٹی وی کو مالی نقصان پہنچا جبکہ دعوی میں استعدعا کی گئی تھی کہ معاہدے ک خلاف ورزی پر شعیب اختر کے خلاف 10 کروڑ 33 لاکھ روپے کی ڈگری جاری کی جائے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More