مسلمانوں پر مسلط موجودہ حکمرانوں کا ایجنڈا ختمِ نبوت قانون کا خاتمہ ہے، مولانا فضل الرحمان

بول نیوز  |  Nov 25, 2021

مرکزی امیر جمعیت علماء اسلام و سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے خان پور اسٹیڈیم میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ آج جو حکمران مسلمانوں پر مسلط ہیں ان کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ ختم نبوت قانون کو ختم کر دیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ پاکستان جو دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آیا آج بھی عقیدہ ختم نبوت کے قلعے کی چوکیداری کرنی پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 74 سال پہلے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا، ہم نے مسلمانوں کی قربانیوں سے غداری کی ہے۔ جس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا سب سے زیادہ ظلم اس ملک میں مذہب کے ساتھ کیا گیا۔

امیر جمعیت علماء اسلام کا کہنا تھا کہ آئین بنا تھا کہ ہر قانون قرآن و سنت کے تابع ہو گا مگر آج تک ایک بھی اسلامی قانون پاس نہیں ہو سکا۔ اگر ایک قانون پاس بھی ہوا تو اسے آئین اور قانون سے متصادم قرار دے دیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم آئے روز یہی سوچتے ہیں کہ مغرب کو کیسے خوش کرنا ہے۔ جو مغرب کے نظام اور تہذیب کو بالادستی دے وہ ان کو قبول کرتے ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم نے خطاب میں کہا کہ مغرب کی تہذیب کی طرف جاؤ گے تو وہ تمہیں خسارے کی طرف دھکیل دیں گے،

جب اس قسم کے لوگ ہم پر مسلط ہوں تو ان کے تسلط کو ختم کرنا قوم کا فرض بن جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ صاحب اگر کوئی ایجنٹ بھیجنا ہے تو عقل والا تو بھیجو ، نالائق اور نااہل  شخص کو ایجنٹ بنا کر پاکستان پر مسلط کر دیا ہے ، جب سے یہ حکمران آیا ہے ملکی معیشت کا تخمینہ زیرو فیصد رہ گیا ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ظالم حکمرانوں کے مقابلے میں اگر ہم نے بے حسی کا مظاہرہ کیا تو پھر پاکستان کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا ، ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے، ہم نے پہلے ہی کہا تھا یہ یہودی ایجنٹ ہے ، یہ مغربی تہذیب کا نمائندہ ہے ، آج سب اس بات کو مان رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ چیلنج یہ ہے اگلی حکومت ملک کو موجودہ بحرانوں سے اٹھائے گی کیسے ؟ ہم قوم میں شعور بیدار کرنے نکلے ہیں کوئی خفا ہوتا ہے تو ہو جائے ۔ آپ ڈٹ جائیں دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More