آلودگی: لاہور پہلے نمبر پر، اسموگ کے سبب شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

بول نیوز  |  Nov 26, 2021

پنجاب میں فضائی آلودگی کا زور برقرار، اسموگ کے سبب شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔

فضائی آلودگی کے اعتبار سے آج لاہور دنیا کےآلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پرہے۔

ایئرکوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور کی فضاؤں میں آلودہ ذرات کی مقدار 392 جبکہ کراچی میں 167 پرٹیکیولیٹ میٹرز ریکارڈ کی گئی۔

 

ائیرکوالٹی انڈیکس کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بھارت کا شہر دہلی دوسرے جبکہ کولکتہ چتیسرت نمبر پر ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی میں فضائی آلودگی بڑھنے سے بچوں میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فضائی آلودگی کی وجہ سے دہلی میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی فضائی آلودگی کا نوٹس لیا ہے۔

واضح رہےکہ  گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں بڑھتی آلودگی سے متعلق اہم اجلاس ہوا،جس میں ان کا کہنا تھا کہ صاف اور آلودگی سے پاک پاکستان ہماری اولین ترجیح ہے، آلودگی سے لڑنے کے لیے خصوصی طور پر بڑے شہروں میں پائیدار ماحولیاتی تحفظ کا منصوبہ وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ہدایت جاری کی کہ متعلقہ محکمے فوری طورپر ضروری اقدامات کریں، ہمارے بڑے شہروں کو آلودگی سے بچانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی وضع کریں۔

“A sustainable environment protection plan is need of the hour to fight pollution, especially in major cities”, said Prime Minister @ImranKhanPTI while chairing a meeting on pollution-related issues in the country. pic.twitter.com/CLnLMT2CoG

— Prime Minister’s Office, Pakistan (@PakPMO) November 23, 2021

وزیراعظم نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی اقدامات کیے جانے چاہئیں، ہم بڑے پیمانے پر شجرکاری کے ذریعے اپنے شہروں کو زیادہ سے زیادہ سرسبز بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

 ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، ملک امین اسلم، ڈاکٹر شہباز گل اور متعلقہ سینئر افسران نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل، بابر حیات تارڑ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

ایئرکوالٹی انڈیکس کی درجہ بندی

ایئرکوالٹی انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 درجے تک آلودگی مضرِ صحت ہے۔

201 سے 300 درجے تک کی آلودگی انتہائی مضرِ صحت ہوتی ہے جبکہ 301 سے زائد درجہ خطرناک آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

فضائی آلودگی

فضائی آلودگی ہوا میں موجود وہ مادے یا ذرات ہوتے ہیں جو کہ انسانی سرگرمیوں کی بدولت فضا کا حصہ بنتے ہیں۔

فضائی آلودگی گیسوں کی زیادتی، زہریلی گیسوں، تابکاری شعاعوں، کیمیائی مادوں، ٹھوس ذرات، مائع قطرات، گرد و غبار اور دھویں وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور یہ انسانی صحت اور ماحول دونوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More