پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: لٹن داس کی سنچری، مشفق کے ساتھ ڈبل سنچری پارٹنرشپ

بی بی سی اردو  |  Nov 26, 2021

مشفق الرحیم اور لٹن داس
Getty Images
لٹن داس اور مشفق الرحیم کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت میں 204 رنز بن چکے ہیں

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان چٹاگانگ میں جمعہ کے روز پہلے ٹیسٹ میچ کے شروع ہونے میں ابھی کافی وقت تھا کہ چٹاگانگ میں زلزلے کے جھٹکوں نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

دونوں ٹیمیں زلزلے کے جھٹکوں سے تو محفوظ رہیں لیکن میزبان ٹیم کو میدان میں آنے کے بعد پاکستانی بولنگ کی شکل میں ایک اور زلزلے جیسی کیفیت سے گزرنا پڑا جب اس کے چار بیٹسمین صرف 49 رنز پر پویلین میں واپسبھیجے جا چکے تھے۔

پھر اس مرحلے پر جرات مندی سے بیٹنگ کے لیے مشہور مشفق الرحیم اور وکٹ کیپر لٹن داس کی شاندار ڈبلسنچری شراکت نے اپنی ٹیم کو گرنے سے بچا لیا۔ اس شراکت میں شریک لٹن داس اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری سکور کرنے میں کامیاب رہے اور دوسرے شراکت دار مشفق الرحیم دوسرے دن تین ہندسوں تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔

جب پہلے دن کھیل ختم ہوا تو بنگلہ دیش کا سکور چار وکٹوں پر 253 رنز تھا۔ لٹن داس 113 اور مشفق الرحیم 82 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں اور دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت میں 204 رنز بن چکے ہیں۔

بنگلہ دیش کے کپتان مومن الحق نے ٹاس جیت کر ظہور احمدچوہدری سٹیڈیم کی وکٹ پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ بابراعظم نے ٹاس ہارنے پر دل کو یہ کہہ کر تسلی دے ڈالی کہ ٹاس پر ان کا اختیار نہیں ہے اگر جیت جاتے تو وہ بھی پہلے بیٹنگ کرتے۔

شکیب الحسن، تسکین اور تمیم اقبال کے بغیر میدان میں اترنے والی بنگلہ دیشی ٹیم نے جب شادمان اسلام اور سیف حسن کے ساتھ اننگز شروع کی تو ان کے سامنے شاہین شاہ آفریدی تین سلپ ایک گلی اورشارٹ لیگ کی جارحانہ فیلڈ کےساتھ منتظر تھے۔

پاکستانی ٹیم کو پہلی کامیابی کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور شاہین شاہ آفریدی نے اپنے تیسرے ہی اوور میں سیف حسن کو شارٹ لیگ پر کھڑے عابد علی کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔

اب حسن علی کی باری تھی ۔وہی حسن علی جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ایک خراب میچ کے سبب تنقید کی زد میں آئے تھے لیکن بنگلہ دیش پہنچتے ہی پہلے ٹی ٹوئنٹی میں مین آف دی میچ قرار پائے تھے۔ حسن نے اپنے چوتھے اوور میں دوسرے اوپنر شادمان اسلام کی واپسی کا سامان بھی پیدا کر دیا اور شادمان اپنے ساتھ ایک ریویو بھی لے گئے۔

دونوں اوپنرز کے 33 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد کپتان مومن الحق پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی تھی لیکن ان کا وکٹ پر قیام صرف 19 گیندوں تک ہی رہا اور چھ کے انفرادی سکور پر آف سپنر ساجد خان کی گیند پر رضوان نے انھیں کیچ کر لیا۔ امپائر کا فیصلہ ناٹ آؤٹ تھا لیکن الٹرا ایج نے بابراعظم کے ریویو کو درست قرار دے دیا۔

اگلے ہی اوور میں فہیم اشرف بھی ایکشن میں آ گئے اور اپنے چوتھے اوور میں نجم الحسن شانتو کی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ شانتو، دونوں اوپنر کی طرح 14 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہونے والے تیسرے بیٹسمین تھے۔

لٹن داس
Getty Images
27 سالہ لٹن کمار داس کا پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کا خواب بالآخر اپنے 26ویں ٹیسٹ میں جا کر پورا ہوا

49 رنز پرچار وکٹیں حاصل کرنے کے بعد بابر اعظم یقیناً یہی سوچ رہے ہوں گے کہ بساط جلد از جلد لپیٹ دی جائے لیکن مشفق الرحیم اور لٹن داس کی شراکت نہ صرف پاکستانی ٹیم کی فرسٹریشن میں اضافہ کرتی گئی بلکہ اس نے 2011ء میں شہریار نفیس اور شکیب الحسن کی پارٹنرشپ بھی یاد دلا دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2011ء کے ڈھاکہ ٹیسٹ میں بھی بنگلہ دیش کی چار وکٹیں 43 رنز پر گرگئی تھیں جس کے بعد شکیب الحسن اور شہریار نفیس نے 180 رنز کی اہم شراکت قائم کی تھی۔

27 سالہ لٹن کمار داس کا پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کا خواب بالآخر اپنے 26ویں ٹیسٹ میں جا کر پورا ہوا۔ اس سے قبل وہ دو مرتبہ نروس نائنٹیز کے شکنجے میں جکڑے جا چکے تھے۔

لٹن داس اور مشفق الرحیم کی شاندار شراکت نے اپنی ٹیم کے بڑے سکور تک پہنچنے کی امید پیدا کر دی ہے جس کی بنیاد پر اس کے بولرز پاکستانی بیٹنگ پر دباؤ قائم کر سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی حالیہ ٹیسٹ کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ اپنے آخری گیارہ ٹیسٹ میچوں میں اسے سات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں افغانستان کے خلاف شکست بھی شامل ہے۔ اس دوران اس نے صرف دو ٹیسٹ میچ زمبابوے کے خلاف جیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز: ’مومن الحق کو پریشانی صرف یہ ہے۔۔۔‘

کبھی کبھار آٹھ بولرز بھی کم پڑ جاتے ہیں: سمیع چوہدری کا تجزیہ

یہ شاداب خان کا ’دوسرا جنم‘ ہو سکتا ہے

’حسن علی نے ثابت کیا کہ وہ ایک فائٹر ہیں‘

کپتان مومن الحق کا بحیثیت کپتان یہ دسواں ٹیسٹ ہے۔ گذشتہ نو ٹیسٹ میچوں میں سے وہ صرف دو جیتے ہیں اور چھ میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان دنوں زبردست تنقید کی زد میں رہے ہیں جس پر گذشتہ روز انہوں نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا تھا کہ آپ کسی کا منہ بند نہیں کر سکتے لیکن اپنے کان ضرور بند کر سکتے ہیں۔

عبداللہ شفیق کو ٹیسٹ کیپ مل ہی گئی

اس ٹیسٹ میں بنگلہ دیش نے یاسر علی اور پاکستان نے عبداللہ شفیق کو ٹیسٹ کیپ دی ہے۔ 22 سالہ عبداللہ شفیق پچھلے کچھ عرصے سے پاکستانی سکواڈ کا حصہ رہے ہیں لیکن عمران بٹ اور عابد علی کے ہوتے ہوئے وہ حتمی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے جس پر یہ بحث ہوتی رہی تھی کہ جب انھیں کھلانا ہی نہیں ہے تو ٹور پر کیوں لے جایا جاتا رہا ہے۔

اس ٹیسٹ کے لیے اعلان کردہ 12 کھلاڑیوں میں امام الحق اور عبداللہ شفیق کے درمیان مقابلہ تھا کہ ان میں سے کون باہر بیٹھے گا۔

امام الحق کو سلیکٹرز نے عمران بٹ کو ڈراپ کر کے اس دعوے کےساتھ ٹیم میں شامل کیا تھا کہ انھوں نے اس سیزن میں قائداعظم ٹرافی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے تاہم اگر رنز کی تعداد دیکھی جائے تو سلیکشن کے وقت امام الحق اور عمران بٹ کے درمیان زیادہ رنز کا فرق نہیں تھا۔

امام الحق نے 488 رنز بنائے ہیں جبکہ عمران بٹ اب اپنے رنز کی تعداد کو 500 سے اوپر لے جا چکے ہیں۔

عبداللہ شفیق پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا رہا ہے کہ انھیں صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کی کارکردگی پر ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کیا گیا۔ انھوں نے اپنے اولین فرسٹ کلاس میچ میں سینٹرل پنجاب کی طرف سے سدرن پنجاب کے خلاف سنچری بنائی تھی۔

انھوں نے اسی ماہ پاکستان شاہین ٹیم کے سری لنکا کےدورے میں کھیلے گئے فرسٹ کلاس میچ میں بھی سنچری بنائی ہے۔

عبداللہ شفیق کو اپنے اولین فرسٹ کلاس میچ کے ساتھ ساتھ اپنے اولین ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی سنچری کا اعزاز حاصل ہے۔ انھوں نے گذشتہ سال سینٹرل پنجاب کی طرف سے سدرن پنجاب ہی کے خلاف ٹی ٹوئٹی ڈیبو کو سنچری سے یادگار بنایا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More