آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: صحافت کا پیشہ

بی بی سی اردو  |  Nov 28, 2021

آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے
BBC

دو دہائیاں قبل جب میں نے صحافت کے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا تو ہمارے کیمسٹری کے استاد سخت ناراض ہو گئے اور دیر تک بڑبڑاتے رہے۔

ان کے نزدیک وہ تمام لڑکیاں جو ڈاکٹر نہیں بن سکتی تھیں انھیں استاد بننا چاہیے تھا یا پھر نرس، چوتھا پیشہ ان کے لیے ’پیشہ‘ ہی تھا جس کا ذکر انھوں نے تب بھی واشگاف الفاظ میں کیا۔

سر اظہر سیانے تھے، چوتھا پیشہ واقعی کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ سالہا سال، اپنی ساتھی صحافیوں اور اپنے لیے مخصوص الفاظ سن سن کر اب اتنے ڈھیٹ ہو گئے ہیں کہ پچھلے دنوں جب ایک خاتون صحافی کے بےضرر سے کالم پہ شور و غوغا اٹھا تو حیرت ہوئی کہ اچھا، ہمیں بھی صحافی سمجھا جاتا ہے؟

جانے کس کس کے پالے ہوئے، کس کس جگہ سے اٹھے ہوئے لوگوں نے خواتین صحافیوں کو جس قدر غلیظ گالیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اس کے بعد مجھے یقین تھا کہ کم سے کم ان پر کوئی قاتلانہ حملہ نہیں کرے گا اور نہ ہی انھیں غائب کیا جائے گا۔

مگر کیا کیا جائے، ظرف کے پیمانے ہی اتنے چھوٹے ہیں کہ بے بات چھلکے جاتے ہیں۔ گالیوں والیوں سے جی نہ بھرا تو دو ایک روز پہلے ایک خاتون صحافی کی گاڑی پہ حملہ کیا گیا۔

اس حملے میں گالیاں تو وہی پرانی تھیں جنھیں دہرانا صحافتی آداب کے باعث ممکن نہیں (البتہ یہ گالیاں کھانا صحافتی ذمہ داری سی بنتی جا رہی ہے)۔ نئی بات یہ تھی کہ حملہ آور نے گاڑی کی سکرین پہ ڈنڈے برسائے، کچھ کرچیاں بھی چبھیں، پچھلی نشست پہ بیٹھے کم سن بچے یقیناً خوفزدہ بھی ہوئے ہوں گے۔

آمنہ مفتی کے دیگر کالم

نئی تگڑم، طور پرانے

آ گیا غصہ، کیا کرتا؟

دل جلایے اور ہاتھ سینکیے، اس سے سستا اب کچھ بھی نہیں!

دھرنے کی نئی فصل

مقصد بھی یہ ہی تھا کہ بچوں کو ڈرا دیا جائے۔ بچے ڈر ہی جاتے ہیں اور ذرا بد تمیز بچے جب زیادہ ہی ڈر جائیں تو ڈنڈے لے کر کسی خاتون پہ بھی پل پڑتے ہیں۔ بچوں کو کچھ مہذب ہونا چاہیے اور ڈر کے اظہار کے نارمل طریقے اپنانے چاہیں۔

اس واقعے کے اگلے ہی روز حالات کے ہاتھوں مارے ایک صحافی کی خودکشی کی خبر سنی۔ مرحوم صحافی بے روزگاری کے باعث پچھلے کچھ عرصے سے رکشہ چلا رہے تھے اور ساٹھ ہزار روپے کے مقروض بھی تھے۔

صحافت
BBC

زندہ رہنا آسان کھیل نہیں رہ گیا ہے۔ میڈیا کہنے کو انڈسٹری ہے لیکن آئے روز اس قسم کی خبریں سن کر اس ڈھول کا پول بھی کھل رہا ہے۔ مریم نواز صاحبہ کی لیکڈ کال نے صرف سنی سنائی کی تصدیق کی ہے۔ اشتہاروں کی تقسیم کیسے اور کب ہوتی ہے، کسے نہیں معلوم۔

حکومت خواہ کوئی ہو، صحافی کا حال بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ چند ایک صحافی اگر ساری برادری کے نام پہ کلنک ہیں تو یہ چند جو اپنی جان کی بازی ہار گئے، یہ بھی ہمارا تعارف ہیں۔

صحافت اب مشن نہیں رہی بلکہ صنعت بن گئی ہے، یہ جملہ کہنے میں بہت آسان ہے لیکن صحافی آج بھی مشنری جذبے ہی سے کام کرتا ہے۔ یہ اور بات کہ جس سیٹھ کا وہ ملازم ہے وہ اسے اپنے کاروبار میں فقط خام مال کی حیثیت دیتا ہے۔

کرنے کو باتیں ہزار ہیں لیکن فائدہ کیا کہ جس ملک میں خاتون صحافیوں پہ گالیاں اور ڈنڈے برسانے کا چلن زور پکڑ رہا ہو، وہاں کچھ کہنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ لگے رہو منا بھائی۔

حبیب جالب کے کچھ اشعار یاد آگئے:

خوب آزادی صحافت ہے

نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے

دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن

یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے

دھاندلی دھونس کی ہے پیداوار

سب کو معلوم یہ حقیقت ہے

خوف کے ذہن و دل پہ سائے ہیں

کس کی عزت یہاں سلامت ہے

کبھی جمہوریت یہاں آئے

یہی جالب ہماری حسرت ہے

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More