بالی وڈ سٹار شاہ رخ خان: خواتین ان کی اتنی مداح کیوں ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Nov 28, 2021

شاہ رخ خان
Getty Images

آپ شاہ رخ خان کو کیوں پسند کرتے ہیں؟

میں نے حال ہی میں اپنے چند دوستوں سے بالی وڈ سپر سٹار کے بارے میں یہ سوال کیا۔ وہ حیران رہ گئے کیونکہ انھوں نے کبھی اس سوال پر غور نہیں کیا تھا۔ میں نے بھی نہیں کیا تھا، لیکن ایک نئی کتاب 'شدت کے ساتھ شاہ رخ خان کے متلاشی' (Desperately Seeking Shah Rukh) نے مجھے حیران کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہیرو کے طور پر 'دلکش' اور ان سے 'جڑے ہوئے' لگتے ہیں جبکہ وہ اپنے انٹرویوز میں ’مزاحیہ‘، ’طنزیہ‘ اور ’صاف گو‘ نظر آتے ہیں اور شہرت اور پیسے کی خواہش رکھنے کے بارے میں ’غیر معذرت خواہ‘ ہیں۔

جب میں نے اپنے دوستوں سے مزید اصرار کیا تو انھوں نے شاہ رخ خان کے ادا کردہ کرداروں کے بارے میں مزید گہرائی سے سوچا اور کہا کہ وہ کبھی بھی ’ماچو‘ یعنی مردانگی کی نمائش کرنے والے ہیرو نہیں رہے بلکہ جن خواتین سے محبت کا اظہار کیا ان کے لیے بہت حساس اور ان کے لیے سب کچھ کر گزرنے والے رہے۔

میری ایک دوست کو جب اس بات کا احساس ہوا تو خود حیرانی کے عالم میں انھوں نے کہا: ’یہ سچ ہے! ہم انھیں عورتوں سے ان کی محبت کی وجہ سے پیار کرتے ہیں!‘

بالکل یہی چیز مصنفہ شریانا بھٹاچاریہ نے پائی جب انھوں نے شاہ رخ خان کی درجن بھر مداحوں سے یہی سوال پوچھا۔

لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان کا خواتین کی پسند ہونا درحقیقت معاشی عدم مساوات کی کہانیاں ہیں۔

بھٹاچاریہ لکھتی ہیں کہ ’انھوں مجھے یہ بتایا کہ وہ کب، کیسے اور کیوں شاہ رخ کی طرف متوجہ ہوئیں تو وہ ہمیں یہ بتا رہی تھیں کہ کب، کیسے اور کیوں دنیا نے ان کا دل توڑا۔‘

وہ اس طرح اپنی تحریر سے ان خوابوں، پریشانیوں اور بغاوتوں کو بے نقاب کرتی ہیں جو خواتین کے رومانوی انتخاب سے بے رحمی کے ساتھ وابستہ ہیں اور کہیں نہ کہیں انھیں خسارے میں رکھتی ہیں۔

شاہ رخ خان اپنے مداحوں کے درمیان
Getty Images
شاہ رخ خان کے مداح ان کے پوسٹرز کے ساتھ

یہ کوئی جلد بازی میں کیا گیا سروے نہیں ہے۔ یہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط شمالی ہند کی بہت سی اکیلی، شادی شدہ یا کہیں کہیں درمیانی عمر کی خواتین کے ساتھ بات چیت اور دوستی کی کہانی ہے۔

وہ خواتین ہندو، مسلم اور عیسائی ہیں، کوئی خوش ہے تو کوئی ناخوشگوار گھریلو ماحول میں ہے، کوئی مطمئن ہے تو کوئی مایوس محنت کش خاتون ہے تو کوئی الگ تھلگ اور بے چین محنت کش طبقے کی خاتون ہے۔ سب الگ الگ پس منظر سے آتی ہیں لیکن ان میں جو یکسانیت ہے وہ ان کی پسند شاہ رخ خان ہے۔

خان سنہ 1990 کی دہائی میں کوکا کولا اور کیبل ٹی وی کے ساتھ ہماری زندگیوں میں آئے۔ یہ ایک نئے دور کا ثبوت تھا جب متعدد اقتصادی اصلاحات نے انڈیا کو دنیا کے لیے کھول دیا، جسے ہم لبرلائزیشن کہتے ہیں۔

بھٹاچاریہ کہتی ہیں: 'میں ان 'پوسٹ لبرلائزیشن' عہد کی خواتین کی کہانی سنانا چاہتی تھی اور میں نے شاہ رخ خان میں ایک غیر معمولی حلیف پایا۔'

اور انھوں نے یہ حلیف کیسے پایا اس کا جواب یہ کتاب ہے۔

وہ سنہ 2006 میں مغربی ہند کی ایک کچی آبادی میں اگربتی بنانے والی خواتین کے درمیان ایک دن مزدوری اور اجرت کے روزانہ کے سوال سے اچاٹ ہو گئیں تو انھوں نے وقفے کے دوران ان سے بات کرنا شروع کی اور ان سے ان کے پسندیدہ ہیرو کے بارے میں پوچھا۔

'وہ ان کے بارے میں زیادہ باتیں کرنے میں دلچسپی لینے لگیں جو انھیں خوشی دیتے ہیں اور انھیں جو خوشی دیتے ہیں وہ شاہ رخ خان ہیں۔‘

بعد کے سروے میں یہ جمود کو توڑنے والی گفتگو ثابت ہوئی اور جلد ہی بھٹاچاریہ نے محسوس کیا کہ یہ خواتین نہ صرف شاہ رخ خان کو پسند کرنے کے معاملے میں یکساں ہیں بلکہ 'غیر مساوی لیبر مارکیٹ اور گھر میں ان کی اپنی جدوجہد‘ بھی ان میں جوڑ پیدا کرتی ہے۔ اور اس مفروضے میں اس وقت بھی کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے جب انھوں نے متوسط طبقے یا امیر خواتین سے بات کی۔

آخر اور زیادہ لڑکے اور مرد سکرین پر شاہ رخ کی طرح کیوں نہیں ہو سکتے؟ یہ ایک عام خواہش تھی۔ بھٹاچاریہ کہتی ہیں کہ 'وہ سب اسے اپنے اپنے حساب سے بنا رہی تھیں، اور وہ سب اسے اپنی حقیقت اور اپنی خواہشات کی بنیاد پر بنا رہی ہیں۔‘

شاہ رخ خان کی اپنی ہیروئینوں کے ساتھ مکمل عقیدت نے ایک ایسے آدمی کی تصویر پیش کی جو حقیقی توجہ دینے والا ہے، اصل میں ایک عورت کی بات سننے والا ہے۔ ان کے بہت سے کرداروں کی ایک واضح خصوصیت قسمت کے بارے میں ان کی بے چینی ہے جو انھیں ان خواتین کا ایک مثالی پارٹنر بناتی جن کی زندگیاں ان کے اپنے ہاتھ میں کم ہی ہوتی ہیں۔

شاہ رخ خان ہمیشہ ایک پریشان رونے گانے والا کردار رہے ہیں اور ان کی نظر آنے والی کمزوری انھیں بالی وڈ کے مردوں میں نایاب بناتی ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات کو ظاہر کرنے یا دوسروں کی پرواہ کرنے سے کبھی نہیں کتراتے۔

کپڑے تیار کرنے والے کارخانے میں کام کرنے والی ایک نوجوان مسلم خاتون کہنا ہے کہ 'کاش کوئی مجھ سے ویسے بات کرتا یا مجھے ویسے چھوتا جیسے وہ 'کبھی خوشی کبھی غم' میں کاجول کے ساتھ کرتے ہیں، لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا کیونکہ میرے شوہر کا مزاج اور ہاتھ بہت سخت ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

56ویں سالگرہ پر شاہ رخ خان کے بارے میں 56 باتیں

’کنگ آف رومانس‘ کو رومانس سے خطرہ!

جب شاہ رخ خان کو پولیس پکڑ کر لے گئی

امیتابھ کی شاہ رخ کو نصیحتیں

سابق شاہی خاندان کی امیر لیکن ناخوش شادی شدہ ایک خاتون نے کہا کہ وہ اپنے بیٹوں کی پرورش 'اچھے مرد' کے طور پر کرنا چاہتی ہیں۔ اور ان کے مطابق اچھے مرد کی تعریف یہ ہے کہ وہ 'رو سکتے ہوں اور وہ اپنی بیویوں کو ایسا محسوس کرائيں جیسا شاہ رخ ہمیں محسوس کراتے ہیں، محفوظ اور پیار کیے جانے والی۔'

یہ محض گلے شکوے کرنے والی لڑکیاں نہیں ہیں، جو شاہ رخ خان کے زیادہ پریشان کن کرداروں سے بے بہرہ ہیں، جن میں لڑکیوں کا تعاقب کرنا اور ان کو تشدد کا نشانہ بنانا شامل ہے۔ بلکہ ان پر ان کی تنقیدی نگاہ ہے۔ وہ ان فلموں کو پسند نہیں کرتی اور وہ اس بات کو کہتی بھی ہیں۔

شاہ رخ خان اپنے مداحوں کے درمیان
Getty Images
شاہ رخ خان اپنے مداحوں کے درمیان

اگرچہ وہ گلیمر اور ڈرامے سے پوری طرح لطف اندوز ہوتی ہیں لیکن یہ ان کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں بلکہ وہ ان کے لیے بظاہر غیر اہم لمحات ہیں۔

'دل والے دلہنیا لے جائیں گے' شاید شاہ رخ خان کی سب سے بڑی ہٹ فلموں میں سے ایک ہے اور ممکنہ طور پر بالی وڈ کی سب سے کامیاب اور پسندیدہ رومانوی فلم رہی ہے۔ لیکن ایک پرستار لڑکی کی ماں ایک ایسی چیز سے متاثر ہوئی جس کے بارے میں مجھے نہیں لگتا کہ میں نے پہلے کبھی اس پر توجہ دی ہو کہ 'یہ پہلی بار تھا جب میں نے ہیرو کو دیکھا کہ فلم میں گاجر چھیل کر گھر کی خواتین کے ساتھ اتنا وقت گزار رہا ہے۔'

ان کے لیے یہ ناقابل یقین حد تک رومانوی تھا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان خواتین نے متوقع طور پر ہوس یا جنسی کشش کے بارے میں بات نہیں کی لیکن انھوں نے اس کے ماسوا بھی بہت کچھ کہا۔

شاہ رخ خان دل ٹوٹنے اور روزمرہ کی ناانصافیوں کی باتوں والی تھیم سے الگ تھے۔ وہ، وہ شخص تھا جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھیں، اس لیے نہیں کہ وہ بالی وڈ سٹار تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ بہت خیال رکھنے والا تھا۔ اور ایک خیال رکھنے والا آدمی آپ کو اپنا کام کرنے دے گا، پیسے بچائے گا، یا کم از کم آپ کے خوابوں کو زندہ رہنے دے گا۔۔۔چاہے اس سب کا مطلب اتنا ہی ہو کہ وہ آپ کو شاہ رخ کی اگلی فلم دیکھنے کے لیے سنیما ہال لے جائے گا۔

ان کی بہت سے خواتین مداحوں میں وہ بیوروکریٹ بھی شامل ہیں جن کی ماں نے انھیں اس وقت تھپڑ مارا تھا جب وہ نوعمری میں، شاہ رخ خان کی فلم دیکھنے کے لیے سنیما گھر چلی گئی تھیں۔

وہ نوجوان گارمنٹ ورکر بھی شامل ہیں جو خان کی تازہ ترین فلم کو بڑی سکرین پر دیکھنے کے لیے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بھائیوں کو رشوت دیتی ہیں۔ وہ گھریلو ملازمہ بھی شامل ہے جس نے اپنے پادری سے جھوٹ بولا اور لگاتار چار اتوار گرجا گھر نہیں گئی تاکہ وہ ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلمیں دیکھ سکے۔

درحقیقت شاہ رخ کے بہت سے غریب پرستاروں نے زندگی میں بہت بعد تک ان کی کوئی فلم نہیں دیکھی، اس کے بجائے وہ ان کی فلم کے گیتوں پر انحصار کرتے ہوئے اپنی پسند کو پورا کرتے رہے۔

بھٹاچاریہ کہتی ہیں کہ ’خواتین کے لیے مزہ کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔ یہاں تک کہ گانا سننا یا کسی اداکار کو سٹار کی نگاہوں سے دیکھنا بھی۔ جب ایک عورت کہتی ہے کہ وہ کسی اداکار کو پسند کرتی ہے، تو اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ کس شکل و شباہت کے مرد کو پسند کرتی ہے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘

شاہ رخ خان
Getty Images

بھٹاچاریہ لکھتی ہیں کہ شاید یہ خواتین بنیاد پرست نہ ہوں، لیکن ان آسائشوں، ان سادہ خوشیوں کی تلاش میں، انھوں نے بغاوت کی ہے۔ انھوں نے شاہ رخ خان کے پوسٹر اپنے بستر کے نیچے چھپا کر رکھے، اس کے گانے سن کر اس پر رقص کیا، اور اس کی فلمیں دیکھ کر بغاوت کی۔۔۔ اور ان بغاوتوں کی وجہ سے، انھیں احساس ہوا کہ وہ زندگی سے واقعی کیا چاہتی ہیں۔

مثال کے طور پر بیوروکریٹ دنیا میں اپنا راستہ خود بنانے کے لیے پرعزم تھیں کیونکہ وہ پھر کبھی شاہ رخ خان کی فلم دیکھنے کے لیے کسی سے اجازت نہیں لینا چاہتی تھیں۔

ایک نوجوان خاتون گھر سے بھاگ جاتی ہے جب شاہ رخ خان کی فلم دیکھنے کے لیے چوری چھپے سینیما ہال جانے کی پاداش میں اس کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ طے کر دی جاتی ہے جوشاہ رخ کا مداح نہیں اور وہ اس کے مداح ہونے کو بھی پسند نہیں کرتا (بعد وہ فلائٹ اٹینڈنٹ بنتی ہے اور ایک ایسے شخص سے شادی کرتی ہے جو اس میں شاہ رخ خان جیسے جذبات ابھارتا ہے۔)

میری دنیا میں مجھے زیادہ آزادی حاصل رہی لیکن شاہ رخ خان میرے اور میرے دوستوں کے لیے کوئی مزیدار وعدہ یا ممنوع خواب نہیں تھا۔ جب تک میں نے یہ کتاب نہیں پڑھی تھی میں کبھی اپنی والدہ اور خالہ کی تقریباً ہر جمعہ کو رات گئے شو کے لیے سنیما جانے کی خوشی میں پنہاں خاموش بغاوت کی تعریف نہیں کر سکی۔ میں اپنی خوش قسمتی سے غافل تھی۔

لیکن اس کے باوجود وہ ایک ایسا دھاگہ ہے جو ہمارے مختلف قسم کے بچپن کو جوڑتا ہے۔ ایک خاتون نے کہا کہ شاہ رخ خان نے اپنے انٹرویوز کے ذریعے ان کی انگریزی بہتر بنائی۔ اور یہ بھی بات درست ہے، انھوں نے مجھے ہندی سکھائی۔

بھٹاچاریہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے وقت کے ایک آئیکون بھی ہیں اور جب سے وہ بالی وڈ میں آئے ہیں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ ’نوجوان خواتین شاہ رخ خان سے شادی نہیں کرنا چاہتیں، وہ ان جیسا بننا چاہتی ہیں، وہ ان کے جیسی خود مختاری اور ان جیسی کامیابی چاہتی ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More