میانمار کی فوجی عدالت میں آنگ سان سوچی کے خلاف پہلا فیصلہ متوقع

اردو نیوز  |  Nov 28, 2021

میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف اشتعال انگیزی کے مقدمے میں منگل کو فیصلہ متوقع ہے۔ یہ اقتدار پر قابض فوج کی عدالت میں سنائے جانے والے فیصلوں کی فہرست میں پہلا ہے جس سے سوچی کو دہائیوں تک کے لیے جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی اس وقت سے حراست میں ہیں جب رواں سال یکم فروری کو فوج نے ان کی حکومت ختم کر دی تھی۔

مقامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق میانمار میں جمہوریت پسندوں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن میں ایک ہزار 200 سے زائد افراد ہلاک اور ہزار سے زائد گرفتار ہوئے ہیں۔

فوج کے خلاف اشتعال انگیزی کے مقدمے میں اگر آنگ سان سوچی قصوروار پائی جاتی ہیں تو انہیں تین سال قید ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کئی الزامات میں سے صرف ایک ہے، جن کا مقصد جمہوریت کی آئیکن کو سیاست سے ہمیشہ کے لیے نکالنا ہے۔

تاہم میانمار میں فوج کے آنگ سان سوچی سے متعلق ارادے ابھی معلوم نہیں اور حکام مقدمے پر فیصلے میں تاخیر بھی کر سکتے ہیں۔

فوج کے بنائے گئے دارالحکومت نیپیتاؤ میں واقع خصوصی عدالت میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی ہے، جبکہ آنگ سان سوچی کے وکلا کو میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

فوجی بغاوت کے کچھ دنوں بعد، آنگ سان سوچی پر غیر لائسنس شدہ واکی ٹاکیز رکھنے اور انتخابات کے دوران کورونا وائرس کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے جیسے غیر واضح الزامات لگائے گئے تھے۔

ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے ’میرے خیال میں سوچی کو سخت سزا ہوگی۔‘ فائل فوٹو: اے ایف پیمیانمار کی فوج نے آن سانگ سوچی پر دیگر الزامات بھی لگائے ہیں، جس میں سرکاری رازوں کے قانون کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور انتخابات میں دھوکہ شامل ہیں۔

آنگ سان سوچی کو اکثر فوج کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ شیڈول 76 سالہ رہنما کی صحت پر اثر انداز ہوا ہے۔

ڈیوڈ میتھیسن نامی تجزیہ کار، جو پہلے میانمار میں مقیم تھے، کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ تقریباً یقینی ہے کہ سوچی کو سخت سزا ہوگی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’سوال یہ ہے کہ ان کی قید کیسی ہوگی؟ کیا انہیں (جیل کے) پرہجوم خواتین بلاک میں رکھ کر ان کے ساتھ ایک عام مجرم جیسا سلوک کیا جائے گا یا وی آئی پی قید میں رکھا جائے گا؟‘

واضح رہے کہ فوج کے سابق دور میں آنگ سان سوچی کو ہاؤس اریسٹ میں رنگون میں واقع ان کی آبائی حویلی میں رکھا گیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More