عالمی ادارہ صحت نے کورونا کی نئی قسم اومی کرون کو خطرہ قرار دے دیا

بول نیوز  |  Nov 28, 2021

عالمی ادارہ صحت نے کورونا کی نئی قسم اومی کرون کو تشویشناک قرار دے دیا۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ نئی قسم اومی کرون کی خصوصیات پریشان کن ہیں، امریکا میں بھی اومی کرون کے کیسز ہوسکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا اس حوالے سے مزید کہنا ہےکہ کئی ہفتے بعد پتہ چلے گا کہ موجودہ ویکسینز اومی کرون کے خلاف کس قدر موثر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابتدائی شواہد سے پتہ چلا ہےکہ اس نئی قسم میں ری انفیکشن کا خطرہ دیگر اقسام سے زیادہ ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا وائرس کی اس نئی قسم کو اومی کرون کا نام دیا گیا ہے اور اس کے پہلے کیسز جنوبی افریقا میں دریافت کیے گئے تھے۔

اس کے بعد متعدد ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا اور امریکا نے جنوبی افریقا اور اس کے ارد گرد خطے کے ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

دوسری جانب عالمی ادارہ تجارت ڈبلیو ٹی او نے گزشتہ چار سال میں اپنا پہلا وزراء کے سطح کا اجلاس، پھر سے ملتوی کر دیا ہے۔ 160 ممالک کے وزرا نے اس اجلاس میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ملاقات کرنی تھی۔

جنوبی افریقا میں اس اومی کرون قسم کی تصدیق کے بعد سے یہ قسم بوٹسوانا، بلجیئم، ہانگ کانگ، اور اسرائیل میں پائی گئی ہے۔

کورونا وائرس کی اس نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ کووڈ 19 کے خلاف تمام کوششیں ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں اور اگر اس نئی قسم سے متعلق سائنسدانوں کے خدشات درست ہیں تو دنیا بھر میں کورونا کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔

کورونا کی اس نئی قسم کی دریافت کی اہم بات یہ ہے کہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔

اسی وجہ سے ایک سائنسدان نے اس نئی قسم کے کورونا وائرس کو ہولناک قرار دیا تو ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ یہ اب تک سامنے آنے والے تمام وائرس سے خطرناک ہے۔

ایسے میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم کتنی تیز رفتار سے پھیل سکتی ہے اور اس میں کورونا کی ویکسین کے خلاف کتنی مدافعت موجود ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کا توڑ کیا ہے؟

اس نئی قسم کے بارے میں تمام تر خدشات کے باوجود ان سوالوں کے سب جواب اب تک سائنسدانوں کے پاس بھی نہیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More