برطانیہ جانے والے مسافروں کے لیے روانگی سے پہلے کا وائرس ٹیسٹ دکھانا لازم

اردو نیوز  |  Dec 06, 2021

برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں سفر کرنے والوں کو روانگی سے پہلے منفی کورونا وائرس ٹیسٹ دکھانے کی ضرورت ہوگی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ منگل سے برطانیہ کا سفر کرنے والے کسی بھی شخص کو پرواز میں سوار ہونے سے پہلے پچھلے 48 گھنٹوں کے اندر منفی لیٹرل فلو یا پی سی آر ٹیسٹ کے ثبوت دکھانا ہوں گے۔

اس ضابطے کا اطلاق کسی بھی ملک کے 12 سال سے زیادہ عمر کے مسافروں پر ہوگا۔ فی الحال مسافروں کو برطانیہ پہنچنے کے دو دن کے اندر پی سی آر ٹیسٹ دینا پڑتا ہے۔

لازمی پری ڈیپارچر ٹیسٹنگ کے دوبارہ لاگو ہونے پر ٹریول انڈسٹری کی جانب سے ناراضی پر مبنی ردعمل سامنے آیا ہے۔

برطانیہ کی بزنس ٹریول ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ اقدام ’ہتھوڑے کی ضرب‘ جیسا ہو گا جب کہ ایئرپورٹ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ’پری ڈیپارچر ٹیسٹ ایک تباہ کن دھچکا ہے کیونکہ یہ لوگوں کو سفر کرنے سے روکے گا۔‘

جسٹس سکریٹری ڈومینک راب نے سکائی نیوز کو بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ نیا اقدام ’ٹریول انڈسٹری کے لیے ایک بوجھ‘ ہے لیکن انہوں نے اس پر زور دیا کہ برطانیہ کو اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’اگر وائرس کے نئے ویریئنٹ پر قابو پانے کے لیے ضروری ہوا تو وہ مزید فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔‘

برطانیہ نے اس سے قبل جنوبی افریقہ سے پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی اور 10 افریقی ممالک کو اپنی ریڈ لسٹ میں ڈال دیا تھا، یعنی صرف برطانیہ اور آئرش شہری یا برطانیہ کے رہائشی وہاں سے برطانیہ جا سکتے ہیں۔ نائیجیریا بھی پیر سے اس فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سفری پابندیاں کورونا کے نئے ویریئنٹ کے پھیلاؤ کو نہیں روکیں گی۔

برطانیہ نے اس سے قبل جنوبی افریقہ سے پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر اور شماریات دان ڈیوڈ سپیگل ہالٹر نے سکائی نیوز کو بتایا کہ ’اس وقت سفری پابندیاں صرف پھیلاؤ کو تھوڑا سا سست کر رہی ہیں لیکن وہ اسے(اومی کرون کو) روکنے والی نہیں ہیں، یہ  آئے گا۔‘

واضح رہے کہ انگلینڈ نے کورونا کے نئے ویریئنٹ کے سامنے آنے کے بعد دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک کو دوبارہ لازمی کر دیا ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More