کوئٹہ: سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

کوئٹہ میں سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کی سرکاری اسپتالوں میں مطالبات کے حق میں ہڑتال بدستور جاری ہے جس کے باعث اسپتالوں میں اوپی ڈیز اور ان ڈور سروسز تاحال بند ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز کی طبی سروسز کے بائیکاٹ کے باعث اسپتال آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ روز صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے سرکٹ ہاؤس دالبندین میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے، ڈاکٹرز پر لاٹھی چارج مسئلے کا حل نہیں لیکن امن و امان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے کمیٹی بن چکی ہے، کمیٹی کی تشکیل کے باجود ریڈ زون پر دھرنا دے کر ڈیوٹی نہ کرنا بلا جواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہیں بڑھانے کے علاوہ ینگ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات ماننے کو تیار ہیں، ڈاکٹرز کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر سالانہ 7 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

سید احسان شاہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان معاشی طور پر کمزور ہے ہم دوسرے صوبوں کے برابر تنخواہیں نہیں بڑھا سکتے، اب بھی 17 گریڈ کے ڈاکٹر کی تنخواہ اسی گریڈ کے اسسٹنٹ کمشنر سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نکال کر ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج ختم کیا جائے۔

صوبائی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایچ او ادویات کی خریداری کرسکتے ہیں، میڈیکل اسٹور ڈیپارٹمنٹ ایک کرپٹ ادارہ ہے جس سے خریداری کا اختیار واپس لے رہے ہیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More