فیس بک اور گوگل اشتہاراتی دھوکہ دہی میں ملوث

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

امریکا میں ایک غیرمعمولی کیس کی سماعت ہوئی جس میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل اور فیس بک کے درمیان اشتہارات کا ایک معاہدہ ہوا جس میں گوگل نے فیس بک کو اشتہارات میں ترجیح دی۔ لیکن اس کا حیرت انگیز پہلو یہ ہےکہ یہ عام ڈگر سے ہٹ کر ایک کام تھا جس میں عوام کا اعتبار مجروح ہوا اور بعض کمپنیوں کو غیرمعمولی فائدہ پہنچایا گیا۔

فیس بک اور گوگل کے اعلیٰ ترین حلقوں یعنی مارک زکربرگ اور سندر پیچائی نے ایک معاہدے پر دستخط کئے اور اس کا خفیہ نام “جیڈائی بلیو” رکھا گیا۔ یہ معاہدہ 2018 میں کیا گیا۔ اس کا اہم مقصد فیس بک سے وابستہ اشتہارات کو گوگل پر اہمیت دینا تھی۔

پھردسمبر 2020 میں ٹیکساس میں اس کے خلاف ایک اپیل دائر کی اور اس کے بعد مزید امریکی ریاستوں نے بھی عین یہی اپیل دائر کی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ “گوگل نے اپنے ڈجیٹل اشتہارات کی خریدوفروخت کےلیے “غلط، دھوکہ دہی پر مبنی اور گمراہ کن” طریقے استعمال کئے۔ اس میں بالکل صاف ظاہر ہے کہ گوگل نے اپنے پلیٹ فارم پر فیس بک کے اشتہارات کو ترجیح دی تھی۔ یہ عمل بین الاقوامی مسابقت کی بنا پر شفافیت کے خلاف ہے۔

لیکن گوگل نے ایسا کیوں کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک نے گوگل سے اشتہارات کی مارکیٹ چھیننے کے لیے اشتہار خریدنے کا ایک متنازعہ طریقہ اختیار کیا تھا جسے ہیڈر بڈنگ کا نام دیا گیا تھا۔

گوگل نے فیس بک کی اس تجارتی چال پر فوری ردِ عمل دکھایا۔ لیکن اس کے پاس فیس بک کے سامنے پسپائی دکھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اس کےبعد معاہدہ ہوا اور اس کی رو سےفیس بک اشتہارات کو گوگل کی جانب سے اہمیت دی جائے گی اور نیٹ ورک کی دیگر سہولیات بھی پیش کی جائے گی۔

یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ 2015 میں گوگل کے اعلیٰ ترین افسران نے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں انہیں دیگر کمپنیوں سے اشتہاراتی مسابقت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب فیس بک اینٹی ٹرسٹ قوانین کے تحت زیرِ بحث آیا ہے ۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مظالم کو ڈجیٹل کوڑے دان میں ڈالنے اور 2015 میں ہی نیوزی لینڈ کی بعض کمپنیوں کو غیرقانونی فروغ دینے جیسے الزامات اب بھی فیس بک کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بنے ہوئے ہیں۔

سائبر قوانین کے ماہرین کے مطابق یہ معاملہ کسی طرح بھی رکے گا نہیں بلکہ اس میں مزید انکشافات اور پیشرفت بھی ہوں گی۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More