ورلڈ اکنامک فورم، چینی صدر کا تسلط اور دھونس کی پالیسی پر انتباہ

بول نیوز  |  Jan 17, 2022

چین کے صدر شی جن پنگ  نے ورلڈ اکنامک فورم کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو ’’پروٹیکشنزم‘‘ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

صدر شی جن پنگ نے مطالبہ کیا کہ عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے تعاون کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر نظریاتی دشمنی  کو ہوا دینے، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی مسائل پر سیاست کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔

چینی صدر کا کہنا ہے کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ محاذ آرائی  سے مسائل حل نہیں ہوتے، یہ صرف تباہی کو دعوت دیتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اعتماد اور تعاون کے ساتھ ہی کورونا وائرس کی عالمی وبا  کو شکست دی جا سکتی ہے۔

صدر شی جن پنگ کا یہ بیان چین اور امریکا کے مابین بڑھتے مختلف تنازعات کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں تائیوان کی خودمختاری، ملکیتی حقوق، تجارت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات شامل ہیں۔

چینی صدر عالمی اقتصادی فورم کے پہلے روز آن لائن خطاب کر رہے تھے جو ہر سال سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہوتا ہے تاہم کورونا وبا کے سبب اس مرتبہ ورلڈ اکنامک فورم کا ورچوئل اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے ورچوئل اجلاس سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا خطاب بھی متوقع ہے۔ فورم سے امریکا میں متعدی امراض کے شعبے کے سربراہ انتھونی فوچی بھی ایک مباحثے میں شرکت کریں گے جس میں کورونا وبا کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی جائے گی۔

علاوہ ازیں عالمی اقتصادی فورم کے دوسرے روز اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور جاپانی وزیراعظم کشیدا فومیو بھی تقاریر کریں گے۔ جرمنی کے چانسلر اولاف شولز بھی پہلی بار ورلڈ اکنامک فورم سے بدھ کے روز خطاب کریں گے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More