سانحہ مری میں ریسکیو کنٹرول روم کی لاپرواہی، مدد مانگنے والوں کو شٹل کاک بنائے رکھا

بول نیوز  |  Jan 17, 2022

سانحہ مری میں پنجاب ایمرجنسی سروسز ریسکیو کا غیرذمہ دارانہ کردار سامنے آگیا، فون پر مدد مانگنے والوں کو دیگر اداروں کے نمبرز فراہم کرتے رہے۔

سانحہ مری میں پنجاب ایمرجنسی سروسزریسکیو کا غیرذمہ دارانہ کردارسامنے آگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شدیدبرفباری میں پھنسے 100 سے زائد افراد نے ریسکیو سے مدد مانگی جب کہ ریسکیوکنٹرول روم نے فون پر مدد مانگنے والوں کو شٹل کاک بنائے رکھا اور یہاں سے وہاں ٹرخاتے رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مدد مانگنے والے سیاحوں کی کال ریکارڈنگ سامنے آئی ہے جس میں ریسکیو اہلکارمشکل میں پھنسے افراد کو دیگراداروں کے نمبر فراہم کرتے رہے۔

کال ریکارڈنگ میں برفانی طوفان میں پھنسے افراد فون پر ریسکیو اہلکاروں کی منتیں کرتے رہے، کنٹرول روم میں موجود اہلکار نفری کی کمی کو جواز بنا کروقت گزارتے رہے۔

ذرائع کے مطابق ریسکیو اہلکار مری کی ایمبولینس بھی ٹریفک میں پھنسنے کی اطلاع  دیتے رہے، مری میں ہنگامی حالات کے لیے ریسکیو 1122 کے 3 ایمرجنسی اسٹیشنز موجود ہیں۔

یاد رہے سانحہ مری پر قائم 5 رکنی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات مکمل کرلیں اور رپورٹ میں سانحہ کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد کی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے مری میں موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے بڑی تعداد میں سیاح پہنچے تھے لیکن شدید برفباری اور طوفان کے باعث مری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں 23 افراد جان کی بازی ہارگئے تھے جن میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد شامل تھے اور جاں بحق ہونے والوں میں ایک معصوم بچی بھی شامل تھی۔

سانحہ مری 7 اور 8 جنوری کو مری میں شدید برفباری کے بعد رش کے باعث پیش آیا تھا جہاں ہوٹلوں کے کمروں کے 50 ہزار روپے مانگنے کے باعث لوگ اپنی گاڑیوں میں ہی رات گزارنے پر مجبور ہوئے اور وہاں وہ دم گھٹنے کے باعث انتقال کرگئے تھے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے 6 سے 9 جنوری تک راولپنڈی اور مری سمیت ملک کے مختلف حصوں میں برفباری اور بارش کی پیش گوئی کی تھی۔

حکومت پنجاب کی جانب سے سانحہ مری پر 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی جس نے اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہے اور وہ اب واپس لاہور روانہ ہوگئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے فائنڈ نگز کو ڈرافٹ کی شکل دے دی جو وہ کل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیش کرے گی۔

تحقیقاتی ٹیم نے سانحہ مری میں زندہ بچ جانے والے لوگوں کے بیانات اور وہاں موجود افسران کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ بنائی ، اس دوران انتظامی محکموں کے 30 سے زائد افسران کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ مری میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے

خیال رہے مری میں گنجائش سے زیادہ ٹریفک کے داخلے اور غلط پارکنگ کی وجہ سے مشینری کی نقل و حرکت میں مسائل پیدا ہوئے تھے اور ٹریفک جام ہونے سے مشینیں آفت زدہ سڑکوں پر ہونے کے باوجود صحیح طور پر کام نہ کر سکیں جب کہ  محکمہ ہائی وے کنٹرول کو روڈ کلئیرنس مشینری بھجوانے کے لیے وائرلیس سے متعدد پیغامات بھیجے گئے۔

کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مری آنے والے سیاحوں نے اس رات کو خوفناک تجربہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں سانحہ مری کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ انتظامیہ کی غفلت سے سانحہ مری پیش آیا کیوں کہ مری جانے والے راستے 5 دن کی برفباری کے بعد بند کیے گئے لیکن تین دن بعد مری جانے والے راستے بند کردینے چاہئیے تھے ، انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے میں 2 دن کی تاخیر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے سانحہ مری کے ذمہ دار قرار

تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ میں بتایا کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ کو بھی مسلسل نظر اندازہ کیا گیا اور برف ہٹانے والی مشینری ایک جگہ کھڑی تھی جس کا عملہ غائب تھا۔

واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو ہدایت کی تھی کہ وہ سانحہ مری کے ذمہ داروں کا تعین کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More