کولمبیا میں کمسن ماحولیاتی کارکن کو قتل کر دیا گیا

بول نیوز  |  Jan 20, 2022

لاطینی امریکا کے ملک کولمبیا میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک 14 سالہ کارکن کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برینر ڈیوڈ کو اُن کے گارڈ کے ساتھ ایک دیہی علاقے میں پیٹرولنگ کے دوران ہلاک کیا گیا۔ کم سن ماحولیاتی کارکن برینر ڈیوڈ کو ’’دھرتی ماں کے محافظ‘‘ کے طور پر جانا جاتا تھا۔

گاؤکا علاقائی سودیشی کونسل (سی آر آئی سی) کا کہنا ہے کہ ناسا نامی مقامی کمیونٹی کے ایک ڈنڈا بردار گروپ کا گشت کے دوران مسلح افراد سے آمنا سامنا ہوا جنہوں نے فائرنگ کرکے نوجوان برینر ڈیوڈ اور ایک گارڈ کو ہلاک کر دیا۔ حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اے سی آئی این نامی ایک اور سودیشی کمیونٹی نے حملے کی ذمہ داری باغی تنظیم فارک پر عائد کی ہے جس نے 2016ء میں امن معاہدہ مسترد کر دیا تھا۔ اس امن معاہدے کی وجہ سے کولمبیا کا تقریباً 60 سال پرانا تنازع اختتام کو پہنچا تھا۔

کولمبیا کے صدر ایوان ڈوک نے برینر ڈیوڈ کی ہلاکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ نوجوان اپنی گاؤکا کمیونٹی میں ماحولیاتی تحفظ کا علمبردار تھا۔

کولمبیا کے انسانی حقوق کے محتسب کی جانب سے بتایا گیا ہے سال 2021ء میں 145 کمیونٹی لیڈر اور حقوق کے محافظ مارے گئے جن میں سودیشی کمیونٹی کے 32 نمائندوں کے علاوہ دیہی کمیونٹی کے لیے آواز اٹھانے والے اور سات ٹریڈ یونین کے ارکان شامل ہیں۔

امن معاہدے کے باوجود حالیہ مہینوں میں کولمبیا میں پُرتشدد واقعات میں تیزی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ فارک گوریلا گروپ، ای ایل این باغی گروپ، پیرا ملٹری فورسز اور ڈرگ کارٹلز کے درمیان علاقے اور وسائل پر قبضے کی جنگ ہے۔

2016ء میں امن معاہدے کے بعد سے 1288 ماحولیاتی کارکن مارے جا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’’گلوبل وٹنس‘‘ کی جانب سے سماجی کارکنان کے لیے کولمبیا کو سب سے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔ 2020ء میں کولمبیا میں 65 ماحولیاتی کارکنان کو ہلاک کیا گیا۔

صدر ایوان ڈوک کی حکومت منشیات کے اسمگلروں کو ملک میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹہراتی ہے۔ یاد رہے کولمبیا کوکین پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More