بچوں میں کورونا ویکسین کا خوف دور کرنے کا طریقہ

بول نیوز  |  Jan 21, 2022

بچوں میں کورونا ویکسین کا خوف دور کرنے کے لئے سعودی عرب کے شہر ریاض میں خصوصی ویکسی نیشن سینٹرز بنائے گئے ہیں۔

کورونا ویکسین کے ان خصوصی سینٹرز میں نہایت ہی خوشگوار ماحول فراہم کیا گیا ہے تاکہ بچے ویکسین لگانے سے خوف زدہ نہ ہوں۔

سعودی حکومت کی وزارت صحت کے مطابق 5 سے 11 برس کے بچوں میں کورونا ویکسی نیشن کے لئے توکلنا اور صحت ایپ پر پہلے اپائنٹمنٹ لینے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

وزارت صحت سعودی عرب نے ویکسی نیشن سینٹرز پر کارٹون کرداروں کی تصاویر اور رنگ برنگے اسٹیکرز چسپاں کئے گئے ہیں تاکہ بچے ماحول سے مانوس ہو سکیں۔

سعودی عرب کی حکومت نے بچوں کو ویکسی نیشن کی طرف راغب کرنے کے لئے ٹوئٹر پر ایک وڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ویکسین لگانے والے بچوں کو خوشگوار ماحول میں دکھایا گیا ہے۔

لصحتهم الدور جاء عندهم.. وأبطالنا على الموعد!موعد طفلك لأخذ لقاح فيروس كورونا متاح الآن لهم.#جاء_دورنا pic.twitter.com/d3KDNTMEzT

— وزارة الصحة السعودية (@SaudiMOH) January 17, 2022

سعودی حکومت کے مطابق مملکت کے تمام ریجنز میں 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کے لئے ویکسی نیشن کے دو مرحلے بنائے گئے ہیں۔

پہلے مرحلے میں ان بچوں کو ویکسین لگائی جائے گی جو کسی قسم کے امراض میں مبتلا تھے جبکہ دوسرے مرحلے میں عام بچوں کو ویکسین لگانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

سینٹر کے عملے کو اس بات کی خصوصی تربیت دی گئی ہے کہ وہ انجیکشن کا خوف بچوں سے کس طرح دور کریں، جس کے لیے سینٹرز میں موجود عملہ بچوں کو رنگ برنگے کارٹون کرداروں کے اسٹیکرز بھی فراہم کرتا ہے.

جبکہ انہیں مختلف کھلونے بھی دیے جاتے ہیں تاکہ بچے کسی خوف کے بغیر سینٹر میں آئیں۔

سینٹر کے باہر بچوں کا استقبال کرنے کے لیے بھی خصوصی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جو آنے والے بچوں سے انتہائی نرمی و خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں اور انہیں ویکسی نیشن بوتھ میں لے جاتے ہیں۔

وزارت کی جانب سے بچوں کے لیے بنائی گئی ویڈیو غیر معمولی طور پر مقبول ہورہی ہے جسے دیکھ کر بچے ویکسین لگوانے کے لیے فوراً تیار ہوجاتے ہیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More