یوکرین جنگ کی آڑ میں جعلی خیراتی ویب سائٹس کا انکشاف

بول نیوز  |  May 08, 2022

یوکرین جنگ کی آڑ میں سیکڑوں آن لائن دھوکے بازوں کا جعلی خیراتی ویب سائٹ چلانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بی بی سی کی ایک انویسٹیگیشن میں معلوم ہوا ہے کہ آن لائن جعلسازوں نے ان لوگوں کو ٹھگنے کے لیے جو یوکرین کے لیے عطیات دینا چاہتے ہیں جعلی خیراتی ویب سائٹس بنائیں۔

ان جعلی ویب سائٹس کے نام ’سیو دی چلڈرن‘ کی طرح کے رکھے گئے۔

کچھ جعلسازوں نے یہ بھی دِکھانے کی کوشش کی کہ وہ محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کے لیے آلات لے رہے ہیں۔

ایک چیریٹی کے سربراہ نے اس عمل کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جعلساز دنیا بھر میں ضرورت مند بچوں کا حق مار رہے ہیں۔

تحقیقات میں ایک جعلی سائٹ کی شناخت ہوئی جس کا نام ’سیو لائف ڈائریکٹ‘ تھا- جس نے ایک لاکھ ڈالرز اکٹھے کرنے کا دعویٰ کیا تھا- نائیجیریا کے دارالحکومت کے کسی مقامی کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

جب بی بی سی نے اس کو تلاش کر کے اس سے رابطہ کیا تو اس نے شروع میں یہ کہا کہ وہ مغربی یوکرین میں اپنے ایک دوست کو خیرات بھیجا کرتا تھا۔

بعد ازاں اس نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک لاکھ ڈالرز اکٹھے نہیں کیے تھے۔

اس نے کہا کہ وہ ویب سائٹ کے اصلی ہونے کے ثبوت پیش کرے گا لیکن اس نے ثبوت فراہم نہیں کیے- اور اگلے ہی روز ویب سائٹ ڈاؤن ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں2 hours agoایلون مسک کو ٹوئٹر کی رقم کی ادائیگی کے لیے مزید 7 ارب ڈالرز مل گئے

کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنی اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن، وینچر کیپیٹل...

6 hours agoجعلی ویڈیوز کا ہنگامہ لیکن دراصل ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کیا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی کچھ غیر مناسب ویڈیوز کا اس...

12 hours agoفیس بک کی سرچ ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کا طریقہ

 گوگل کی طرف فیس بک بھی اپنے صارفین کی سرچ ہسٹری کو...

2 days agoٹوئٹر ایلون مسک کے حوالے نہ کیا جائے ، عدالت میں درخواست دائر

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور اب ٹوئٹرکے مالک ایلون مسک کا شمار ان...

2 days agoواٹس ایپ سےاب 2GB تک فائل بھیجنا ممکن؛ آسان طریقہ جانیں

واٹس ایپ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی میسیجنگ ایپلی کیشنزمیں...

2 days agoارجنٹینا کے مرکزی بینک نے بٹ کوائن پر پابندی عائد کردی

ارجنٹینا کے مرکزی بینک نے تمام مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسی اور...

تازہ ترین نیوز پڑہنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں بول نیوزایپ

General Rectangle – 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More