محمد رضوان کوٹی20ورلڈ کپ میں ممنوع دوادینےکاانکشاف

سماء نیوز  |  May 09, 2022

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈاکٹر نجیب اللہ سومرو نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران وکٹ کیپر بلےباز محمد رضوان کی جان بچانے کے لیے انہیں منوعہ دوائی دی گئی تھی۔

دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے صرف دوروز قبل 29 سالہ رضوان کو سینے میں شدید انفیکشن ہوا تھا۔

میگا میچ کے لیے معجزانہ طور پربروقت صحت یاب ہونے سے قبل رضوان نے آئی سی یو میں دو راتیں گزاری تھیں۔

محمد رضوان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سہیر زین العابدین بتایا تھا کہ جب کرکٹرکو اسپتال لایا گیا تو ان کے سینے میں شدید درد تھا،فوری طور پر چیک کیا گیا کہ کہیں یہ ہارٹ اٹیک کا معاملہ تو نہیں لیکن رضوان کے گلے میں انفیکشن کی وجہ سے ان کی سانس اور کھانے کی نالیاں سکڑ گئی تھیں۔

ڈاکٹر نجیب اللہ نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ ممنوعہ چیزکے استعمال کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لی گئی تھی۔

ڈاکٹر نجیب اللہ نے رضوان کے ساتھ انٹرویو میں ان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ‘آپ سانس لینے سے قاصر تھے اور مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے آپ کی صحت یابی میں مدد کے لیے وہ دوا لگانے کے لیے اجازت لینی پڑی، عام طور پریہ کھلاڑیوں کے لیے ممنوع ہے لیکن چونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن دستیاب نہیں تھا، اس لیے ہمیں اس دوا کو انجیکشن لگانے کے لیے آئی سی سی سے اجازت لینی پڑتی ہے ‘۔

آسٹریلیا کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے قبل قومی ٹیم کے ڈاکٹرنجیب نے بابراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ رضوان چیسٹ انفیکشن کے باعث 2 روزتک اسپتال میں زیرعلاج رہے، وہ آئی سی یو میں تھےلیکن کسی کو آگاہ نہیں کیا گیا کہ ٹیم کا مورال ڈاؤن نہ ہو، ناقابل یقین طور پرمیچ سے قبل رضوان صحتیاب ہوکرفٹ قرار پائے۔

میچ کے بعد سابق فاسٹ بالر شعیب اخترنے بھی ٹوئٹرپررضوان کی تصویرشیئرکی جس میں وہ اسپتال کے بسترپرموجود تھے، شعیب نے کیپشن میں کرکٹرکوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ شخص آج اپنے ملک کے لیے کھیلا اوربہترین کارکردگی دکھائی۔

سُپر12 مرحلے کے پانچوں میچز کے علاوہ سیمی فائنل میں بھی قوم کو مایوس نہ کرنے والے رضوان نے شانداراننگ کھیلتے ہوئے 52 گیندوں پر67 رنز اسکورکیے تھے تاہم پاکستان یہ میچ ہارگیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More