یورپ، کوویڈ سے اموات کی تعداد بیس لاکھ سے متجاوز

بول نیوز  |  May 12, 2022

ادارہ برائے عالمی صحت کے مطابق خطے میں 218,225,294 رجسٹرڈ  کوویڈ کیسوں میں سے 2,002,058 افراد کوویڈ کے سبب مر چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ادارہ برائے عالمی صحت کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے وبائی مرض کورونا کا مرکز رہنے والے یورپ میں کوویڈ 19 سے مرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

واضح رہے، ڈبلیو ایچ او کا یورپی خطہ 53 ممالک اور خطوں پر مشتمل ہے، جن میں کئی وسطی ایشیائی ممالک بھی شامل ہیں۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ، دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد افراد وباء کے سبب زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

دریں اثنا، مارچ کے پہلے دو ہفتوں میں دوبارہ سر اٹھانے کے بعد، یورپ میں متاثرین کی تعداد کم ہو رہی ہے۔پچھلے سات دنوں میں نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں 26 کمی آئی ہے۔

علاوہ ازیں، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عالمی وباء کے اثر سے دنیا مکمل طور پر باہر نہیں نکلی ہے۔ مختلف ویرئینٹ کا آنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وائرس کسی بھی کوئی سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔ تاہم، احتیاط کر کے اس کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں58 mins agoغیر جانبداری ترک کر کے فن لینڈ کا نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ

فن لينڈ نے نيٹو ميں شموليت کا فيصلہ کرلیا ہے ۔ روس...

2 hours agoپولیس کی نا اہلی یا غفلت، بندر تھانے سے اہم قتل کیس کے ثبوت لے اڑا

بھارت میں پولیس کی نااہلی اور غفلت کا انوکھا واقعہ پیش آیا...

2 hours agoسری لنکا بحران، رانیل وکرما سنگھے کی بطور وزیر اعظم واپسی، احتجاج جاری

سری لنکا میں راجا پاکسے کے استعفیٰ کے بعد رانیل وکرما سنگھے...

3 hours agoچین، ٹیک آف کے دوران مسافر طیارہ حادثے کا شکار، طیارے میں آگ بھڑک اٹھی

چین کے جنوب مغربی شہر چونگ کنگ میں جمعرات کی صبح تبت...

4 hours agoایران، اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام، سویڈش شہری کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

احمد رضا جلالی کی بیگم ویدا کی کوشش ہے کہ وہ کسی...

6 hours agoدبئی کے پرتعیش علاقے میں سوا 3 لاکھ ڈالر کا ڈاکا، 4 ڈاکو دھر لیے گئے

متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں واقع معروف پُرتعیش علاقے جمیرہ...

تازہ ترین نیوز پڑہنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں بول نیوزایپ

General Rectangle – 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More