پشاور:مسجدکوچہ رسالدار بم دھماکے کاماسٹرمائنڈ ہلاک

سماء نیوز  |  May 14, 2022

پشاور میں جامع مسجد کوچہ رسالدار بم دھماکے میں ملوث 2 دہشت گرد پولیس مقابلے میں ہلاک کردئیے گئے۔

پشاور پولیس کے مطابق تھانہ پشتخرہ پاوکہ ولید آباد میں 14 مئی کی صبح اینٹلی جنس اطلاعات کی بنیاد پرآپریشن کیا گیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ مصدقہ اطلاع تھی کہ دہشت گرد خود کش بمبار کو لاکر ایک اہم ہدف کے لئے تیار کررہے تھے تاہم پولیس نے موقع پر چھاپا مارا۔

دہشت گردوں اور سی ٹی ڈی کی اسپشل چھاپہ مار ٹیم کےدرمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔فائرنگ کےدوران 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ 3 سے 4 دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے۔

              ہلاک دہشت گردوں  میں سے ایک کی شناخت حسن شاہ ولد ارمان شاہ جبکہ دوسرے کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

پولیس حکامچار مارچ کو پشاور میں جائے وقوع پر موجود پولیس حکام نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ بم دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا، سی سی پی او کے مطابق جامع مسجد میں 2 حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں روکا تو حملہ آوروں نے پولیس اہل کاروں پر فائرنگ کردی۔حملہ آورپولیس اہلکاروں پرفائرنگ کے بعد مسجد میں داخل ہوئے۔

سی سی پی او پشاور کا کہنا تھا کہ  امام بارگاہ میں دہشت گردی کے اس واقعے میں تقریباً 5 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

 قصہ خوانی کے کوچہ رسالدار امام بارگاہ میں خودکش دھماکے میں 60 سے زائد افراد شہید اور 190 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

ایف آئی آرواقعے کی ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر میں دھماکے کو خودکش قرار دیا گیا ہے۔مقدمہ ایس ایچ او تھانہ خان رازق کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ میں گھس کر پہلے اندھا دھند فائرنگ کی، فائرنگ کے بعد خود کش حملہ نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

سی سی ٹی ویواقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ خودکش حملہ آور رکشے میں سوار ہوکر کوچہ رسالدار آیا۔ خودکش حملہ آور کے ساتھ سہولت کار بھی نظر آرہے تھے جب کہ خودکش حملہ آور اور سہولت کار پیدل مسجد کی طرف گئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More