بھارت میں بریانی فیسٹیول میں ’بیف بریانی‘ پیش کرنے پر پابندی

بول نیوز  |  May 15, 2022

چنئی: بھارتی ریاست تمل ناڈو میں کلیکٹر نے بریانی فیسٹیول میں ’بیف بریانی‘ پیش کرنے پر پابندی عائد کردی۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست تمل ناڈو کے ضلع ترو پت تھو ر میں منعقد ہونے والے بریانی فیسٹول میں کلیکٹر نے“ بیف بریانی “ پیش کرنے پر پابندی لگادی ہے جس کے بعد فیسٹول ہی منسوخ کردیا گیا ہے۔

ترو پت تھو ر کی ضلعی انتظامیہ نے سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے 13 سے 15 جون تک فیسٹول کا انعقاد کیا تھا جس میں 20 الگ الگ طرح کی بریانی کی ڈش پیش کیے جانے کا منصوبہ تھا۔

لیکن اس پر تنازعہ تب کھڑا ہوا جب ضلعی کلیکٹر نے ’بیف بریانی‘ پیش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

دریں اثنا ریاست کے ایس سی، ایس ٹی کمیشن نے کلیکٹر کی طرف سے ’بیف بریانی‘ پر عائد کی گئی پابندی کو مسلمانوں ، دلتوں اور قبائلوں کے تئیں امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے ان سے اس حوالے سے جواب طلب کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے کلیکٹر کو خط ارسال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کی جانی چاہیے کیونکہ اس میں مسلمانوں کے خلاف امتیاز نظر آتا ہے جبکہ ضلع کے علاقے ایمبور، جہاں فیسٹول ہونے والا تھا اس علاقے میں مسلمانوں کی آبادی دو لاکھ سے زائد ہے ۔

مزید پڑھیں18 hours agoلاش کی آنکھوں کو دوبارہ زندہ کرنے والے سائنسدانوں کا موت کے حوالے سے بڑا دعویٰ

ایک لاش کی آنکھوں کو زندہ کرنے والے سائنس دانوں نے دعویٰ...

18 hours agoنئے جاسوسوں کی بھرتی کیلئے برطانوی خفیہ ایجنسی کا انوکھا طریقہ

برطانیہ کی معروف ترین خفیہ ایجنسی ایم آئی 5 نئے جاسوسوں کی...

18 hours agoچاند کی مٹی میں پودا اگانے کا تجربہ کامیاب

سائنسدانوں نے چاند کی مٹی میں پودا لگانے کا کامیاب تجربہ کر...

18 hours agoدنیا کا سب سے بڑا قلم کہاں موجود ہے؟ ویڈیو دیکھیں

بھارتی شہری نے دنیا کا پہلا 37.2 کلوگرام وزنی ’بال پین‘ بنا...

22 hours agoگوگل پر پاکستانی زیادہ تر کیا سرچ کرتے ہیں؟ ہوشربا انکشافات

  اگر آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو یہ ناممکن سی بات...

1 day agoکیا آپ مکمل طور پر پھٹے پرانےجوتے ساڑھے تین لاکھ روپے میں خریدیں گے

برانڈ کے پیچھے لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اب ایک مشہور برانڈ...

تازہ ترین نیوز پڑہنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں بول نیوزایپ

General Rectangle – 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More