انٹربینک میں ڈالر کی قدر شدید دباؤ کا شکار

سماء نیوز  |  May 16, 2022

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، ایک روز میں ایک روپے 65 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مقامی کرنسی مارکیٹوں میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن پیر کو بھی پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہا، خاص طور پر انٹربینک میں ڈالر کی قدر بڑھنے کی رفتار زیادہ ہے جہاں پیر کو ڈالر کی قدر میں 1.65 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ڈالر 194.18 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 194.40 روپے کی سطح پر بھی دیکھا گیا۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالرکی قدر ایک روپے کے اضافے سے 195.50 روپے ہوگیا۔ کرنسی ڈیلرز کے مطابق اس کی وجہ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی زیادہ طلب ہے، جس کے باعث انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں زیادہ اضافہ ہورہا ہے اور اس کے اثرات اوپن مارکیٹ پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔

کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ برآمد کنندگان ڈالر کی قدر بڑھنے کے لالچ میں باہر سے برآمدی رقوم منتقل کرنے میں ٹال مٹول کررہے ہیں جس کی وجہ سے بھی ڈالر کی عدم دستیابی بڑھ رہی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹر بینک میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جارہی، بینک بھی صورتحال کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔

واضح رہے کہ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل گررہے ہیں، جس کا اثر پاکستانی روپے کی بے قدری کی صورت میں سامنے آرہا ہے اور ڈالر کی قدر بڑھ رہا ہے۔

ڈالر کی قدر بڑھنے کی رفتار عید کے بعد سے بڑھ گئی ہے اور گزشتہ ہفتہ مجموعی طور پرانٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 5 روپے 90 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے بڑھی۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق آئی ایم ایف سے معطل قرض پروگرام میں مثبت پیشرفت کی صورت میں ڈالر کی قدر میں بڑھنے کا سلسلہ رک سکتا ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو ڈالرکے مقابلے میں روپے دباؤ کا شکار رہے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More