ڈریپ شعبہ صحت میں تحقیق کیلئے بڑی رکاوٹ قرار

سماء نیوز  |  May 16, 2022

ماہرین صحت نے ڈریپ کو شعبہ صحت میں تحقیق کیلئے بڑی رکاوٹ قرار دیدیا۔ ان کا کہنا ہے کہپاکستان   صحت کے شعبے میں تحقیق کیلئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے تعلیم یافتہ افراد کی شدید کمی ہے جو کلینکل ٹرائلز اور تحقیقی منصوبوں کی بروقت جانچ پڑتال کرکے ان کی منظوری دے سکیں۔

ماہرین صحت اور ریسرچرز نے پیر کے روز کراچی میں ہویوالی ریسرچ ایکسیلینس کانفرنس سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔

ریسرچ ایکسیلینس کانفرنس کا انعقاد فارمیوو ریسرچ فورم کے تحت کیا گیا تھا اور اس موقع پر ملک بھر سے 19 ڈاکٹروں اور ماہرین صحت کو مختلف شعبوں میں تحقیق کیلئے 3 لاکھ روپے فی کس گرانٹ جاری کی گئی۔

کانفرنس سے آغا خان یونیورسٹی کے کلینکل ٹرائلز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر سعید حامد، انڈس میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور معروف کارڈیالوجسٹ پروفیسر فیروز میمن، آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر انور صدیقی، پروفیسر بدر فیاض زبیری،  سید جمشید احمد، ہارون قاسم، شوکت علی جاوید، ڈاکٹر مسعود جاوید اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی کے کلینیکل ٹرائلز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سعید حامد کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہری یورپ کے شہریوں سے نسلی اور جینیاتی طور پر مختلف ہیں اس لئے پاکستانیوں میں دوائیں مختلف طریقے سے اثر کرتی ہیں، پاکستان میں دواؤں پر مقامی ریسرچ اور کلینکل ٹرائلز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی بیماریوں کا مقامی حل تلاش کیا جا سکے۔

انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے لاکھوں مریض جینوٹائپ تھری سے متاثر ہیں جس کا علاج کافی مشکل ہے لیکن بدقسمتی سے اس جینو ٹائپ پر پاکستان میں کوئی سیر حاصل ریسرچ موجود نہیں، جس کی وجہ سے ایسے مریضوں کے علاج میں کافی مشکل درپیش ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں یورپ میں بنی ہوئی کوئی بھی دوا اس وقت تک منظور نہیں کی جاتی جب تک اس دوا پر مقامی طور پر ریسرچ نہ کی جائے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان میں مقامی تحقیق اور ریسرچ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے جہاں پر ایسے قابل اور تربیت یافتہ افراد کی شدید قلت ہے جو ریسرچ کی اہمیت کو جانتے ہوئے ان منصوبوں کی جلد از جلد منظوری دے سکیں۔

فارمیوو ریسرچ فورم کے روح رواں اور پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے ایڈیٹر شوکت علی جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں انتہائی کم تحقیق کی جارہی ہے، فارمیو ریسرچ فورم حال ہی میں قائم کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد نوجوان ڈاکٹروں طلباء اور تحقیق کاروں کو صحت کے شعبے میں تحقیق کیلئے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے۔

مقامی دوا ساز کمپنی فارمیوو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں دوا ساز ادارے طبی تحقیق کیلئے وسائل مہیا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کرونا کی وباء کے دوران محض 6 مہینے کے اندر اس بیماری کی ویکسین بنالی گئی جس کے نتیجے میں کرۂ ارض پر کروڑوں انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔

سید جمشید احمد نے مزید کہا کہ ریسرچ گرانٹس کیلئے ملک بھر سے 46 نوجوان ڈاکٹروں اور تحقیق کاروں نے درخواستیں دی تھیں، جن میں سے 19 کو 5 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں، ہر ریسرچر کو 3 لاکھ روپے تک جاری کئے گئے ہیں اور ان کو 18 مہینے کے اندر اپنا ریسرچ پروجیکٹ مکمل کرکے اس کی رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More