مولانا فضل الرحمان کی بھی فوری انتخابات کی مخالفت

سماء نیوز  |  May 17, 2022

سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ طے شدہ رائے ہے کہ کچھ شعبوں میں اصلاحات کے بعد ہی انتخابی میدان میں اترا جائے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب باہمی مشاورت سے انتخابی مرحلہ طے کیا جائے گا اور انتخابی اصلاحات میں کتنا وقت لگتا ہے اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے فوری انتخابات کا امکان رد کرتے ہوئے کہا کہ سوا سال کی مدت ہی تو ہے اس سے آگے تو نہیں جایا جا سکتا اور ویسے بھی ابھی گدلے پانی سے دوبارہ گدلے پانی میں اترنا کوئی معقول بات نہیں ہو گی۔

سربراہ جمعیت علماء اسلام کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پچھلے پونے 4 سال میں تمام اداروں کو تباہ کر دیا ہے اور اب ہمارے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہم ملک دوبارہ صحیح راستے میں لا سکتے ہیں اور اس کے لیے کتنا وقت درکار ہو گا۔

آرمی چیف کی تقرری سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں تو کسی صورت میں اس معاملے کو سیاسی اجتماعات کا موضوع گفتگو نہیں بنانا چاہتا۔ فوج کا اپنا نظام ہے جس میں اس کے سربراہ کو ایک مقام حاصل ہوتا ہے حکومت کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کس کی تقرری کرتی یا توسیع دیتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مزید کہا کہ سویلین اداروں میں کوئی تقسیم آ جائے تو ازالہ ممکن ہے لیکن دفاعی اداروں میں تقسیم آ جائے یا سول اداروں کو قومی سلامتی کے اداروں سے لڑا دیا جائے تو پورا ملک اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔

سربراہ جمعیت علماء اسلام کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تحریک سنہ 2018 میں ہونے والی انتخابی دھاندلی کے خلاف چل رہی تھی اور ہم ووٹ کی امانت عوام کو واپس دلانے کی تحریک چلا رہے تھے۔ عمران خان کو گھر تو پارلیمنٹ نے بھجوایا ہے۔ براہ راست عوام نے انھیں ہٹایا ہے۔ جب تبدیلی آئی تو انتخابی اصلاحات کے بعد ہی انتخابی عمل شروع کرنے پر سب کا اتفاق رائے ہوا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم شروع دن سے اسمبلیوں کا حلف اٹھانے کے حق میں نہ تھے لیکن مشاورتی عمل سے ہماری رائے میں تبدیلی آئی۔ ہم عمران خان کی حکومت کو تحریک کے نتیجے میں ہٹانا چاہتے تھے لیکن جب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو گھر بھجوانے کی تجویز سامنے آئی تو اس کو قابل عمل سمجھ کر قبول کر لیا۔

مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت تخت اسلام آباد پر بٹھایا گیا تھا اور انھوں نے یہ بات اس وقت بھی کی تھی جب عمران خان کو مسند اقتدار پر بٹھایا جا رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ  آج عمران خان کس منھ سے کہہ رہے ہیں ان کو بین الاقوامی سازش کے تحت اقتدار سے الگ کیا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں ایک بین الاقوامی سازش کے تحت پاکستان پر مسلط کیا گیا اور پھر پارلیمنٹ نے انھیں ووٹ کی قوت سے اقتدار سے باہر نکالا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More