آئی ایم ایف نے مزید شرط نہ رکھی تو معاہدہ ہو جائے گا: شہباز شریف

اردو نیوز  |  Jun 23, 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے اگر مزید شرائط نہ لگائیں تو معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

جمعرات کو مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی شرائط طے ہو گئی ہیں، اگر مزید کوئی شرط سامنے نہ رکھی تو معاہدہ جلد ہو جائے گا۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے ذریعے عوام کو جلد ریلیف ملنے کی توقع نہ رکھیں قوم کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر جانا ان کی اور دیگر اتحادیوں کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین اور سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی لیکن وہ بھی سوچتے ہوں گے کہ پاکستان آخر کب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس قوم کو بنانا ہے، مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ کشکول توڑ کر ہی دم لیں گے۔‘

شہباز شریف نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نواز شریف کے تمام اچھے اقدامات کو ختم کیا اور چین، سعودی عرب سیمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کیے۔

’پی ٹی آئی حکومت نے چین پر الزام تراشی کی لیکن اس کے باوجود وہ ہماری مدد کرنے کو تیار ہے۔‘

خیال رہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اردو نیوز سے گفتگو میں تصدیق کی تھی کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

 یٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی وصول کرنے کا امکان ہے۔ فوٹو: اے ایف پیعلاوہ ازیں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا تھا کہ بین الاقوامی مانیٹری فنڈ کے ساتھ معاشی اقدامات اور بجٹ اہداف پر اتفاق رائے ہوا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام بحال ہونا یقینی ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق یکم جولائی سے عوام سے پیٹرولیم مصنوعات پر بتدریج 50 روپے فی لیٹر لیوی وصول کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں 10 روپے لیٹر اور اس کے بعد پانچ روپے فی لیٹر وصول کیے جائیں گے۔ اگلے سال لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 750 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے سالانہ 15 کروڑ سے 30 کروڑ روپے کمانے والے افراد اور کمپنیوں سے 1 سے 4 فیصد تک انکم سپورٹ لیوی بھی وصول کی جائے گی جبکہ سالانہ 6 سے 12 لاکھ روپے کمانے والوں سے اڑھائی فیصد ٹیکس وصول کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More