مرنے سے چند لمحے قبل انسان کیساتھ کیا ہوتا ہے؟ سائنسدانوں نے لرزہ خیز راز سے پردہ اٹھا دیا

روزنامہ اوصاف  |  Jul 31, 2022

موت ایک حقیقت ہے مگر اس بات کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگرچہ ہر انسان نے مرناہے مگر اس کے باوجود اس کے لیے موت ایک ایسا راز ہے جس سے پردہ اسی وقت اٹھتا ہے جب کہ انسان خود اس راز سے پردہ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا ہے۔کینیڈا میں کی جانے والی ایک ریسرچ ٹیم کے مطابق مرنے سے چند لمحے قبل انسان کی آنکھوں کے سامنے سے اس کی پوری زندگی گھومتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ایک 87 سالہ مرگی کے مریض کی دل کا دورہ پڑنے کے سبب اچانک موت واقع ہو گئی۔لیکن مرنے سے قبل اس آدمی کے دماغ کے ساتھ منسلک مشینیں اس کی دماغ کی ساری کیفیات کو ریکارڈ کر رہی تھیں اور مرنے سے قبل اور مرنے کے بعد اس کے دماغ کے مطالعے سے جو نتائج سائنسدانوں نے اخذ کیے وہ حیرت انگیز تھے۔اس آدمی کے دماغ کے مرنے سے قبل اور مرنے کے 30 سیکنڈ بعد کی جانے والی ریکارڈنگ کے مطابق اس کا دماغ ویسے ہی کام کررہا تھا جیسے کہ عام طور پر کسی بھی بات کو یاد کرتے ہوئے دماغ کی حالت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اجمل ضمیر جو اس تحقیق کے رائٹر تھے ان کا ہہ کہنا تھا کہ مریض کے مرنے سے 30 سیکنڈ قبل جب کہ اس کے دل نے جسم کو خون کی فراہمی بند کر دی تھی اس کے دماغ کی لہریں بالکل اسی طرح کی تھیں جیسے کہ انسان کسی خاص بات کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو یا پھر کسی بات پر دھیان لگانے کی کوشش کر رہا ہو۔اس بات کو مزید بڑھاتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کیفیت دل کے رک جانے کے 30 سیکنڈ بعد تک جاری رہی تھی یہ وہ وقت تھا کہ جب انسان کو مردہ قرار دیا جا چکا ہوتا ہے مگر اس کا دماغ اس وقت تک کام کر رہا تھا۔دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ مرنے والے انسان کا دماغ اس کے جسم کے مرنے کے بعد بھی کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ انسان کے دماغ میں اس کی زندگی کے سارے گزرے ہوئے پل یاد آتے ہیں۔تاہم ان تحقیقات کرنے والے افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس آدمی کا دماغ مرگی کے مرض کے سبب سوزش کا بھی شکار تھا- تاہم موت کے پردے کے چھپے رازوں میں سے اس تحقیق نے کسی حد تک پردہ اٹھا دیا ہے جو کہ ایک بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More