دوپہر کو سونے کی عادت آپ کو کن امراض کا شکار بناسکتی ہے؟طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

روزنامہ اوصاف  |  Jul 25, 2022

جو لوگ دوپہر کو کچھ وقت تک سونے کے عادی ہوتے ہیں ان میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص اور فالجکا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جرنل ہائپر ٹینشن میں تحقیق میں بتایا گیا کہ ویسے تو دوپہر کی نیند بذات خود نقصان دہ نہیں، مگر بیشتر افراد اس لیے قیلولہ کرتے ہیں کیونکہ وہ رات کو ٹھیک سے سوتے نہیں۔تحقیق کے مطابق رات کی ناقص نیند اور خراب صحت کے درمیان تعلق موجود ہے، قیلولے سے اس کا منفی اثر پوری طرح ختم نہیں ہوتا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ اکثر دوپہر کو سونے کے عادی ہوتے ہیں ان میں وقت کے ساتھ ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح فالج کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی فرد 60 سال سے کم عمر ہے اور اکثر قیلولہ کرتا ہے تو اس کے لیے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھانے والے عناصر جیسے ذیابیطس ٹائپ 2۔ کولیسٹرول، نیند کے مسائل اور دیگر کو نکالنے پر بھی محققین نے دوپہر کی نیند اور ہائی بلڈ پریشر یا فالج کے درمیان تعلق کو دریافت کیا۔امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ دوپہر کی نیند سے ہائی بلڈ پریشر اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس تحقیق میں 3 لاکھ 60 ہزار افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جن کی جانب سے دوپہر کی نیند کے بارے میں یوکے بائیو بینک کو تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔تحقیق کے لیے ان افراد نے خون، پیشاب اور لعاب دہن کے نمونے اکثر جمع کرائے تھے اور 4 سالہ تحقیق کے دوران 4 بار قیلولے سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ماہرین نے بتایا کہ دوپہر کو چند منٹ کی نیند تو صحت کے لیے مفید ہے مگر یہ دورانیہ ایک گھنٹے یا اس سے زیادہ ہو جائے تو وہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ اکثر رات کو بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ قیلولے سے گریز کریں کیونکہ اس سے رات کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رات کی خراب نیند دن میں شدید تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے اور لوگ دوپہر کو بہت زیادہ وقت تک سوتے ہیں۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More