عمران خان ممنوعہ فنڈنگ کو سازشی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے: مریم اورنگزیب

اردو نیوز  |  Aug 06, 2022

پاکستان کی وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کے دوران شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران کی سوشل میڈیا پر ایک سیاسی جماعت نے ٹرولنگ کی جس میں مذمت کرتی ہوں۔

وزیراطلاعات نے سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’نوجوانوں کو اداروں کے خلاف کھڑا کرنے کا رویہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کل موسم کی خرابی کی وجہ سے لسبیلہ نہیں جا سکے۔ وزیراعظم نے سیلاب زدہ علاقوں میں این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے کو سروے کا حکم دیا تاکہ ریلیف کی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے۔‘

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پی ٹی آئی کو فارن ایڈڈ (غیرملکی امداد لینے والی) پارٹی قرار دیا ہے۔ اس سے قبل کسی بھی پارٹی کے خلاف فیصلے میں آٹھ سال نہیں لگے۔ اس دوران تحریک انصاف نے 51 مرتبہ التوا لیا اور نو مرتبہ وکیل بدلے۔‘

’جو بھی فنڈنگ پاکستان میں آتی رہی، عمران خان اسے جانتے بوجھتے ہوئے وصول کرتے رہے اور وہ تکنیکی معاملے کا بہانہ بنا رہے ہیں۔‘

’عمران خان ممنوعہ فنڈنگ کو سازشی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔‘

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’آپ پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کے ملازمین کے اکاؤنٹس میں پیسہ منگواتے رہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر یہ سب کچھ کیا۔ آپ نے خیراتی پیسے کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے 2008 سے 2013، 2013 سے 2018 اور 2018 سے 2022 تک فارن فنڈنگ کے ذریعے ملک میں سازشی منصوبہ لانچ کیا۔2008 میں یہ منصوبہ شروع ہوا، اسی فارن فنڈنگ کے ذریعے عمران خان نے 2013 میں ملک کے اندر پارلیمانی نظام اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔‘

’عمران خان نے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے سی پیک کو روکنے کی کوشش کی ۔یہ وہ اہداف تھے جن کی عمران خان نے فارن فنڈرز کے ساتھ کمٹمنٹ کر رکھی تھی۔‘

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More