مجھے کمزور کرکے کس کولانے کی تیاری ہوری ہے ؟ عمران خان نے خود ہی خدشہ ظاہر کر دیا

روزنامہ اوصاف  |  Aug 12, 2022

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کمزورکرکے نوازشریف کو واپس لانے کا منصوبہ بن چکا ہے، مجھے لگ رہا کہ پختونخواہ میں ہمیں نقصان پہنچانے کی پلاننگ کی جارہی ہے، 13 اگست کے جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل دوں گا۔ انہوں نے بول نیوز کو اپنے خصوصی انٹرویو کے دوران کہا کہ قوم جاگ چکی ہے کہ ان کو پتا ہے اگر ابھی الیکشن ہوئے تو پی ٹی آئی جیت جائے گی۔حکومت خوفزدہ ہوچکی ہے، تاریخ دیکھ لوگوں کو خوف کے ذریعے غلام بنایا گیا ہے، یہ لوگ بھی جو کچھ مرضی کرلیں فیل ہوں گے، جنہوں نے 25 مئی کو قانون توڑا ان کو سزا ملے گی، ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں، ایکشن ضرور لیں گے۔25 مئی کو انہوں بہت ظلم کیا، عورتوں بچوں پر شیلنگ کی، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔یہ خوف پھیلانا چاہتے ہیں اور اب اے آروائی کیساتھ جو کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ آخری چال ہے اور یہ ناکام ہون گے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت نیچے جارہی ہے، انڈسٹری بند ہورہی ہے، ترسیلات زر کم ہوگئے اور ڈالر آنا کم ہوگئے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا گیا تو مزید قرضے لینے پڑیں گے۔عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان ملک سے باہر اور پراپرٹی بھی باہر ہے، آصف زرداری کی پراپرٹی ملک سے باہر ہے ، جب کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکیوں کی نفسیات نہیں جانتے میں جانتا ہوں امریکی پالیسی کی خاطر اپنے مفادات قربان نہیں کرسکتے۔ امریکی ان کی عزت کرتے ہیں جو ان کے پاؤں پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پرامن آخری وقت تک رہوں گا، فیصلہ کرلیا ہے ملک کی حقیقی آزادی کیلئے جان بھی قربان کردوں گا، کوئی خوش فہمی میں نہ رہے کہ ان چوروں کو قبول کروں گا، جب جان قربان کرنے کو تیار ہوں تو جیل جانے میں کیا مسئلہ ہے۔مجھے کمزور کرکے نوازشریف کو واپس لانے کا منصوبہ بن چکا ہے، عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی سازش جاری ہے۔مجھے لگ رہا ہے کہ پختونخواہ میں ہمیں نقصان پہنچانے کی پلاننگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13 اگست کے جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل دوں گا، یہ حقیقی آزادی کی جدوجہد ہے جہاں ہمارا ملک آزاد ہو اپنے فیصلے خود کرے، انصاف ہو اسکا رستہ دکھانا ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More