بلوچستان میں بارشیں: بلوچستان کے 34 میں سے 27 اضلاع میں شدید جانی و مالی نقصان

بی بی سی اردو  |  Aug 15, 2022

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے جانی اور مالی نقصانات میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو تین روز کے دوران جن اضلاع میں زیادہ نقصانات ہوئے ان میں کوہلو، ڈیرہ بگٹی، بارکھان، موسیٰ خیل اور قلعہ عبداللہ شامل ہیں۔

ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹس کے مطابق دو تین روز کے دوران پانچوں اضلاع کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر گھروں اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث نہ صرف مختلف علاقوں میں بین الاضلاعی شاہراہوں سے آمدورفت معطل ہوگئی ہے بلکہ بعض بین الصوبائی شاہراؤں پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔

بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نصیر احمد ناصر کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے 34اضلاع میں سے27 طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

سیلاب کی صورتحال سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر جاری کی جانی والی پی ڈی ایم اے کی رپورٹس کے مطابق جون کے وسط سے لے کر اب تک سیلاب سے مجموعی طور پر 196افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ چند دنوں میں مزید ہزاروں مال مویشی کی ہلاکت کے بعد سیلاب سے اب تک ہلاک ہونے والے مال مویشی کی تعداد ایک لاکھ 7 ہزار 7 سو 37 ہوگئی۔

اگرچہ پی ڈی ایم اے کی تازہ رپورٹس میں سیلاب سے مصدقہ متاثر ہونے والے گھروں کی تعداد 19ہزار 7سو 62 بتائی گئی ہے تاہم دو روز قبل بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیاءاللہ لانگو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ متاثرہ گھروں کی تعداد 40 ہزار سے زائد ہے۔

پی ڈی ایم کے مطابق دو لاکھ سے زائد ایکڑ اراضی پر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ وزیر برائے پی ڈی ایم اے نے پریس کانفرنس میں یہ بتایا تھا کہ پانچ لاکھ ایکڑھ اراضی پر فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دیگر سرکاری املاک کے علاوہ متاثرہ اضلاع جو سڑکیں متاثر ہوئی ہیں ان کی مجموعی لمبائی 670کلومیٹر ہے۔

جمعے کی بارش سے ڈیم تک ٹوٹ گئے

خیال رہے کہ ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منیر احمد کاکڑ نے جمعے کو کہا تھا کہ جمعے کے روز علاقے میں نہ صرف بے تحاشا بارش ہوئی بلکہ بارش کے باعث پہلے سے پانی سے بھرے ہوئے دو تین ڈیم ٹوٹ گئے، جس کے باعث صورتحال خراب ہوگئی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلوں کے باعث مجموعی طور 200 سے زائد افراد پھنس گئے تھے جن میں سے 25 بچوں سمیت 70 کے قریب افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد میں سے 15 ایک ٹریکٹر کی ٹرالی پر سوار تھے جو کہ جان بچانے کی کوشش کے دوران پانی میں بہہ گئے۔

ٹریکٹر قلعہ عبداللہ کے کس علاقے میں پھنس گیا تھا؟

ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منیر احمد کاکڑنے فون پر بتایا کہ ٹریکٹر پائیزئی سیدان کے علاقے میں پھنس گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہاں جو عینی شاہدین تھے ان کے مطابق ٹریکٹر کی ٹرالی پر 15 افراد سوار تھے جو کہ ٹرالی کی پانی میں الٹنے کے باعث بہہ گئے۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ بہہ جانے والے ان افراد میں سے پانچ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹریکٹر ٹرالی کے پانی میں ڈوبنے کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔

ٹریکٹر کے ڈوبنے والی ویڈیو میں کیا ہے ؟

ویڈیو میں ٹریکٹر بہتے ہوئے تیز سیلابی ریلے میں پھنسا ہوا ہے اور اس کے ٹرالی میں لوگ سوار تھے۔

https://twitter.com/PDMABalochistan/status/1558210766729363456

رات ہونے کے باعث ان کے پاس جو موبائل فونز تھے انھوں نے ان کے لائٹ بھی جلایا ہوا تھا اور قریب میں کچھ فاصلے پر ان کو بچانے کے لیے لوگ موجود ہیں لیکن وہ ویڈیو میں نظر نہیں آرہے ہیں۔

ان کو بچانے کی کوشش کرنے والے لوگ ان سے باتیں کرنے کے علاوہ ان کو ہدایات بھی دے رہے ہیں لیکن اس دوران پانی کے تیز بہاﺅ کے باعث ٹرالی الٹ جاتی ہے اور اس کے بعد اس میں سوار لوگ نظر نہیں آتے ہیں۔

ٹرالی کے الٹنے کے ساتھ ہی ان کو بچانے والے لوگوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور ان میں سے ایک شخص روتا ہوا بولتا ہے کہ ٹریکٹر پر 15 افراد سوار تھے جو کہ سب بہہ گئے۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کے بچنے کے لیے دعاﺅں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔

قلعہ عبداللہ میں بے تحاشا بارش کے باعث صورتحال خراب ہوئی

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ قلعہ عبداللہ میں بے تحاشا بارش ہوئی جس کے باعث پہلے سے بھرے تین ڈیم ٹوٹ گئے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نصیر احمد ناصر بھی قلعہ عبداللہ پہنچ گئے جہاں انھوں نے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کا جائزہ لیا۔

مزید پڑھیے

سیلابی پانی میں محصور بلوچ دیہاتی: ’لوگ زندگیاں بچانے کے لیے درختوں پر چڑھے ہوئے ہیں‘

کراچی میں بارشیں: سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے والا نوجوان

پاکستان کے وہ علاقے جو کئی مہینے خشک سالی اور مون سون آنے پر سیلاب سے لڑتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی اطلاع ملتے ہیں پی ڈی ایم اے کے تمام وسائل کو استعمال کیا گیا جن میں ہیوی مشنری بھی شامل تھی۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک دو افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ڈائریکٹر فیصل نسیم پانیزئی نے بتایا سیلابی پانی کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں اور انتظامیہ کے اہلکار لوگوں کو ریسکیو کرنے میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رات گئے تک ان میں سے متعدد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا تھا۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر ریلیف عطااللہ مینگل نے بتایا کہ میزئی اڈے کے قریب دو سو سے زائد افراد سیلابی ریلوں میں پھنس گئے تھے۔

ان کا کہنا ان میں 25 بچوں سمیت70 کے قریب افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔

انھوںنے بتایا کہ پھنسے ہوئے باقی افراد ایک پہاڑی پر ہیں جن کو ریسکیو کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More