مصر میں آتشزدگی، تین جڑواں بچے ہلاک

بی بی سی اردو  |  Aug 16, 2022

مصر میں قبطی مسیحوں کے گرجا گھر میں لگنے والی آگ سے کم از کم 41 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں تین جڑوں بچوں سمیت پندرہ بچے شامل تھے۔

مصر کے امبابا ضلع کے گنجان آباد محلے کی تنگ گلیوں میں واقع ابوسفین نامی چرچ میں آتشزدگی کا واقعہ صبح کے اجتماع کے وقت پیش آیا جب وہاں بڑی تعداد میں لوگ اپنے بچوں کے ساتھ موجود تھے۔

گرجا گھر کی چار منزلہ عمارت کی پہلی منزل پر بچوں کی نرسری تھی اور وہ اپنی جماعتوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ آتشزدگی کے اس واقع کی تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس منزل پر بجلی کے تاروں میں خرابی سے آگ شروع ہوئی۔

محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق زیادہ تر اموات دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئیں اس کے علاوہ کئی لوگ بھگدڑ مچنے سے بھی ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں کے لواحقین، چرچ حکام، ایک مقامی ہسپتال اور مصری کے ذرائع ابلاغ کے مطابق مرنے والے بچوں میں پانچ برس کی عمر کے تین ایک ساتھ پیدا ہونے والے جڑواں، مہرایل امیر، یوسف امیر اور فلوپیٹر امیر شامل تھے۔

تینوں بچے اپنی والدہ ارینا عاطف رمزی، جن کی عمر 34 سال تھی، ان کی دادی مگدا حبیب نبیہ اور ان کی 25 برس کی خالہ میرنا عاطف رمزی کے ساتھ انتقال کر گئیں۔

گلوکارہ میریٹیا عماد نے، جو مگدا کی بھانجی اور ارینا کی کزن ہیں،سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اپنے رشتہ داروں کو سوگ کا اظہار کیا۔

Reutersجنازے کے دوران آہ و بکا کرتی ہوئی خواتین

اور ماریٹیا نے کہا، 'حضرت مسیح کے پاس، یہ بہت بہتر ہے۔۔ ہمیں بخششی کے تخت سے پہلے یاد رکھنا۔ جنت میں اب میرے چھ فرشتے موجود ہیں۔'

اور اس سانحے میں صرف میرٹیا کا خاندان ہی نہیں تھا جس نے تین بچوں کو کھو دیا۔ امبا جنرل ہسپتال کی طرف سے جاری کردہ متاثرین کی فہرست کے مطابق، پانچ سالہ جڑواں بچے مریم اور بارسینا تمر وجیہ اور ان کے بڑے بھائی ابراہیم کی موت بھی اس سانحہ میں ہوئی۔

ان بچوں کی آخری رسومات سے لی گئی تصاویر میں ان کی والدہ کو جنازے کے دوران روتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور وہ اپنے بچوں کے کھونے کے حوالے سے 3 انگلیاں اٹھا رہی ہیں۔

متاثرین کی فہرست میں دیگر بچے بھی شامل ہیں۔ ان میں 10 سالہ کیرولوس آرین، 13 سال کی مینا اعظمی اور مینا فاخر شامل ہیں۔

قطبی یونائیٹڈ ویب سائٹ نے کہا کہ کیرولوس کی والدہ بھی مر گئیں، لیکن اس کا بھائی ریمی آگ سے بچ گیا۔

رامی نے اپنے ہسپتال کے بستر سے صحافیوں سے اپنی آزمائش کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بھائی اور اپنی والدہ کے ساتھ اجتماع کے لیے گئے تھے، لیکن چرچ میں آگ لگنے کے بعد وہ بچھڑ گئے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ نہیں جانتے کہ اس کے بعد کیا ہوا۔

اطلاعات کے مطابق رامی کے رشتہ داروں نے اسے بتایا کہ اس کی ماں اور بھائی کے ساتھ کیا ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

آئل ٹینکر میں آتشزدگی سے ہلاکتیں

ایمیزون کے جنگلات: ہزاروں مقامات پر آتشزدگی

کراچی کے ہوٹل میں آتشزدگی

مقامی میڈیا نے خبر دی ہےکہ ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے دو بچے کھوئے ہیں جن میں سے ایک کا نام مینا تھا۔

مینا کی ماں نے کہا کہ "میں وہی ہوں جس نے انہیں جنت میں بھیجا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں ہی نے بچوں کو صبح سویرے جگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 'مینا نے کہا کہ بدھ کو چلیں گے لیکن میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم آج ہی جائیں گے۔'

چرچ کے بشپ، 50 سالہ عبدالمسیح بخیت، متاثرین میں شامل تھے۔ جنازے کے دوران لی گئی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے ہلاک ہونے والے بشپ کی بیوی کے ہاتھوں میں بشپ کے جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More