کیا شیخ رشید گرفتاری سے بچنے کے لیے ملک سے باہر گئے ہیں؟

اردو نیوز  |  Aug 16, 2022

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی ملک سے باہر روانگی آج کل خبروں کا موضوع ہے۔ وہ پیر کے روز پاکستان سے متحدہ عرب امارات روانہ ہوئے تھے۔

سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں جن میں بعض صارفین نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ گرفتاری کے ڈر سے ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر شیخ رشید نے بتایا کہ ان کے حوالے سے افواہیں جھوٹ ہیں اور وہ نجی دورے پر دبئی میں ہیں۔

شیخ رشید گو کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ہیں مگر وہ پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے جلسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں۔

دبئی سے ٹیلی فون پر اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’میں دو دن کے لیے نجی دورے پر آیا ہوں اور 18 تاریخ کو واپس کراچی جاؤں گا اور 19 اگست کو عمران خان کے جلسے میں شرکت کروں گا۔ ‘

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ کسی ملاقات کے لیے لندن نہیں جا رہے۔ ان کے حوالے سے جعلی تصاویر لگائی گئی ہیں۔

شیخ رشید نے بتایا کہ ان کے دورے کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔ منگل اور بدھ کو دبئی میں قیام کے بعد وطن واپسی ہوگی۔

گذشتہ ہفتے شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ان کے اسلام آباد میں واقع گھر اور لال حویلی پر گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا، اگر بغیر وارنٹ گرفتاری کی کوشش کی گئی تو وہ اپنا دفاع کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں جیل سے گھبرانے والا نہیں بلکہ جیل تو ہمارا سسرال، ہتھکڑی زیور اور موت میری محبوبہ ہے، میں نے اپنا بیگ تیار کرلیا ہے، جس میں دوائی، ٹوتھ پیسٹ سمیت تمام سامان ہے، آپ کو گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور وارنٹ دکھائیں میں ساتھ چلوں گا۔‘

اس وقت پاکستان تحریک انصاف اور ان کے اتحادی قانونی مشکلات کا شکار ہیں اور عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گِل اس وقت اداروں کے خلاف مبینہ بغاوت پر اکسانے کے الزام میں جیل میں ہیں جبکہ ایف آئی اے پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں سے فارن فنڈنگ کیس میں بے نامی اکاؤنٹس اور دیگر معاملات پر تفتیش کر رہی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ شہباز گل پر جیل میں تشدد کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More