طوفانی بارش: خشک سالی کے بعد تیز بارش خطرے کا موجب کیوں؟

بی بی سی اردو  |  Aug 16, 2022

Getty Images

برطانیہ کے بیشتر حصوں میں ہفتوں تک جاری رہنے والے گرم اور خشک حالات کے بعد انگلینڈ کے کچھ حصوں میں خشک سالی کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ ایسے میں یہ لگتا ہے کہ ہمیں صرف اچھی بارش کی ضرورت ہے۔

لیکن رواں ہفتے محکمہ موسمیات کی جانب سے بجلی اور گرج کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیش گوئی بھلائی کے بجائے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

ایسے میں سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ یہ بارشیں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں اور اس سے خشک مٹی کے معمور ہونے کا امکان نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موسلا دھار بارش کی ہماری خشک زمین کو اس وقت ضرورت نہیں ہے۔

اچانک سیلاب

رواں سال موسم گرما میں گرمی کی دو لہروں اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے اوپر یہ ہوا کہ برطانیہ کے کئی حصوں میں اوسط سے بھی بہت کم بارش ہوئی۔

یو کے سینٹر فار ہائیڈرولوجی اینڈ ایکولوجی کا کہنا ہے کہ اس سے مٹی مؤثر طریقے سے پک گئی اور اس کی وجہ سے وہ بہت کم نمی کے ساتھ خشک اور سخت ہو کر رہ گئی۔

اگر بارش زیادہ مقدار میں اور تیز رفتاری سے ہوتی ہے، جیسا کہ گرج چمک کے ساتھ ہوتا ہے، تو مٹی نمی کو جذب نہیں کر سکتی۔ اس کے بجائے بارش کا پانی سطح پر جمع ہوتا جاتا ہے ہور ڈھلوان سطحوں پر آکر پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے، جس سے سیلاب آجاتا ہے۔

BBC

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں ماہر موسمیات ڈاکٹر راب تھامسن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اس کا اثر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کنکریٹ پر تیز رفتاری سے پانی ڈالنے کا اثر ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'ہمارے باغات، پارک اور کھیتوں کی زمینیں اب ممکنہ طور پر اتنی ہی خشک ہیں جتنی کہ ٹارمیک اور کنکریٹ ہوتے ہیں۔ وہ علاقے جو ٹارمیک نہیں ہیں وہ بارش ہونے پر ٹارمیک کی طرح ہی برتاؤ کریں گے۔'

یونیورسٹی آف لنکاسٹر میں مٹی کے سائنسدان پروفیسر جان کوئنٹن بتاتے ہیں کہ خشک سالی کا زمین پر سب سے بڑا اثر ہائیڈرو فوبیسٹی کہلاتا ہے۔

جب پانی واٹر پروف تہہ سے ٹکراتا ہے، تو وہ اسے پیچھے دھکیلتا ہے اور یہ بوند یا قطرے بناتا ہے جو بالآخر بہہ جاتا ہے۔

اسی طرح کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب مٹی میں موجود نامیاتی مادّہ خشک ہو جاتا ہے، جس سے مواد کی ایک تہہ بنتی ہے جو پانی کو باہر رکھتی ہے۔

پروفیسر کوئنٹن کا کہنا ہے کہ 'پانی مٹی میں جانے کے بجائے، سطح پر رہ جاتا ہے۔'

'مٹی کی ساخت'

یہ دیکھنا بھی مشکل نہیں ہے کہ کس طرح خشک سالی نے گھاس اور دیگر پودوں کو ختم کر دیا ہے، پارکوں اور کھیتوں کو پیلا کر دیا ہے۔

یہ عام طور پر ایک طرح سے مٹی پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے بھاری بارش سے بچاتے ہیں۔

پروفیسر کوئنٹن بتاتے ہیں کہ 'نباتات (گھاس پھوس، ہریالی) طوفانی بارش کے بڑے قطروں کو چھوٹے قطروں میں توڑ دیتی ہیں۔ اس تحفظ کے بغیر، بڑے قطرے مٹی کی ساخت کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کے اندر کم پانی جذب ہوتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

تیس سال کی ’بربادی‘ جب یوکرین کی بندر بانٹ ہوئی

یورپ میں گرمی کی لہر، لندن میں تاریخ کا گرم ترین دن

برازیل میں طوفانی بارش سے تباہی، 146 لوگ ہلاک، دو سو کے قریب شہری لاپتہ

ڈاکٹر تھامسن بتاتے ہیں کہ اگرچہ برطانیہ میں بہت سی مختلف قسم کی مٹی موجود ہے تاہم اگر کافی بارش ہو تو پورا ملک اچانک سیلاب کا شکار ہو سکتا ہے۔

جہاں کہیں بھی کھڑی رخ والے، پہاڑی علاقے ہیں جہاں پانی بہت تیزی سے حرکت کر سکتا ہے وہ علاقے خاص طور پر زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔

ڈاکٹر تھامسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ گذشتہ موسم گرما میں جرمنی اور بیلجیئم میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی طرح یہاں حالات خراب ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن خدشہ ہمیشہ موجود ہے۔

جب کبھی کسی چھوٹے سے علاقے اور مختصر وقفے میں گرج چمک کے ساتھ بارش زیادہ مقدار میں ہوتی ہے تو اس سے مٹی کو ٹھیک ہونے کا وقت نہیں ملتا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں اور دنوں میں ہلکی بارش سے مٹی دوبارہ معمول کی سطح پر آجاتی ہے۔

لیکن خشک سالی کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر اوسط سے زیادہ بارش کے ہفتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ جولائی میں دیکھا جانے والا ریکارڈ توڑ درجہ حرارت انسانوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے بغیر 'عملی طور پر ناممکن' تھا اور یہ کہ اب گرمی کی لہریں اور خشک سالی زیادہ شدید اور عام ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More