یورپی ممالک سمیت 25 ملکوں کا ’ڈیجیٹل نومیڈ‘ ویزا کیا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Sep 18, 2022

متحدہ عرب امارات سمیت 25 سے زیادہ ممالک نے ڈیجیٹل نومیڈ (ڈیجیٹل خانہ بدوش) ملازمین کے لیے نئے انداز کے ویزا پروگراموں کا اجرا کر دیا ہے تاکہ یہ اپنے وطن سے دور خانہ بدوش اپنے آبائی ملک کے بجائے کسی تیسرے ملک میں زیادہ آزادی اور عرصے کے لیے قانونی طور پر کام کرسکیں۔

دبئی کا تصور کرتے ہی آپ چمکدار فلک بوس عمارتوں، انسانوں کے بنائے ہوئے جزیروں اور وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے بھول بھلیوں والے شاپنگ مالز کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہاں کی مقامی حکومت اپنی پالیسیوں کا نفاذ کرتی ہے تو جلد ہی امارات یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر پہچانا جائے گا۔ جہاں اپنے وطن سے دور بہت سارے ملازمین کسی تیسرے ملک کی کمپنی کےلیے کام کرنے کے طریقے کے منصوبوں کی بنیادیں قائم کر رہے ہوں گے۔

خطے میں نئے ٹیلنٹ کو راغب کرنے کی کوشش میں مارچ سنہ 2021 میں متحدہ عرب اماراتنے دور دراز ممالک سے آنے والے کارکنوں کے لیے ایک سال کے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنسی پرمٹ) کا اجرا کیا تھا۔ یہ ویزا (ریذیڈنسی پرمٹ) غیر ملکی پیشہ ور افراد جیسا کہ مونٹریال سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ سافٹ ویئر انجینئر جولین ٹریمبلے ہیں، کو بیرون ملک آجروں کے لیے کام جاری رکھتے ہوئے دبئی میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔

یہ نئے آنے والوں کو رہائشی شناختی کارڈ اور زیادہ تر عوامی خدمات تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، جولین ٹریمبلے قانونی طور پر کرائے پر کوئی ایک رہائش حاصل کر سکتے ہیں یا یہاں تک کہ ایک بینک اکاؤنٹ بھی کھول سکتے ہیں اور ان سہولتوں کے باوجود وہ مقامی انکم ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

ٹریمبلے بتاتے ہیں کہ ’جب میں نے ڈیجیٹل نومیڈ ہونا کا فیصلہ کیا تھا (ساڑھے پانچ سال پہلے) تو ویزا کی بہت کم سہولتیں تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں نئی سہولت جیسے امکانات گیم چینجر ہیں۔

’یہ آپ کو گرے زون (غیر واضح صورت حال) سے باہر لے جاتا ہے، اور آپ کو اس جگہ پر مکمل طور پر اس ملک میں ایک قانونی حیثیت دے دیتا ہے جہاں آپ رہ رہے ہیں۔ اگر آپ کا اپنے آبائی ملک کا غیر رہائشی شہری بننے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ ثابت کرنا بھی بہت آسان ہے کہ آپ وہاں سے چلے گئے ہیں اور ایک غیر ملکی بن گئے ہیں۔‘

اس سے پہلے ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) اکثر قانونی طور پر ایک غیر واضح حالت میں ہوتے تھے۔ انھیں تکنیکی طور پر کسی غیر ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن انھیں سکونت اختیار کرنے والے ملک میں مقامی طور پر ملازمتبھی نہیں دی جاتی تھی۔

نئے ڈیجیٹل نومیڈ ویزے ایک مضبوط بنیاد بناتے ہیں، جو ایک قانونی فریم ورک کی وضاحت کرتے ہیں جو دور دراز ممالک کے کارکنوں اور کاروبار دونوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے اور وہ اس طرح اس بے یقینی کیفیت سے باہر نکل آتے ہیں کہ کام کرنے والے شخص کی کسی تیسرے ملک میں کیا حیثیت ہے۔

پھر بھی ویزوں کو ٹیکس سے بچنے کے لیے ایک خامی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا یعنی اس طرح کے ویزوں کو ٹیکس چرانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ڈیجیٹل نومیڈ اب بھی انھیں اپنے آبائی ممالک میں شہریت برقرار رکھنے یا صحت عامہ کے فوائد حاصل کرنے کے لیے اپنے آبائی وطن کے ٹیکسوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔

Getty Imagesاٹلی ان ممالک میں شامل ہے جو ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوشوں) کو مہمانوں کے طور پر راغب کرنا چاہتے ہیں، ایک ایسا پروگرام جو شاید دور سے کام کرنے والوں اور روزگار فراہم کرنے والے آجروں کے لیے ایک طویل مدتی نظام کھڑا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، 25 سے زیادہ ممالک اور خطوں نے اب ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) ویزوں کا اجرا شروع کیا ہے۔

کووڈ-19 وبائی مرض سے شروع ہونے والے رجحان کی شروعات چھوٹی سیاحت پر منحصر یورپی اور کیریبین ممالک سے ہوئی۔ اب متحدہ عرب امارات، برازیل اور اٹلی جیسی بڑی معیشتیں بھی اپنے اپنے اندام کے ویزوں کے اقدامات کا آغاز کر رہی ہیں۔

ان ممالک کے لیے ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) ویزے نئے آئیڈیاز اور ٹیلنٹ کو اپنے ممالک کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی معیشتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری متعارف کرنے کے لیے دور دراز کے کام کی ترقی کا فائدہ اٹھانے کا ایک طریقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

متحدہ عرب امارات کا نیا گولڈن ویزا کیا ہے؟

سابق ہائی سکول ٹیچر نے اپنی 30 ویں سالگرہ سے پہلے ایک ملین ڈالر کیسے کمائے؟

متحدہ عرب امارات کی نئی ویزا پالیسی، اب سیاح 60 روز تک قیام کر سکیں گے

دریں اثنا جولین ٹریمبلے جیسے خانہ بدوشوں کے لیے ویزے استحکام اور وہ بننے کا موقع فراہم کرتے ہیں جسے وہ 'سلو میڈ' کہتے ہیں یعنی طویل عرصے تک رہنے والے ڈیجیٹل نومیڈ جو 'میزبان ممالک کو عارضی اور غیر یقینی رہائش سمجھنے کی بجائے‘ مقامی ثقافت کے بارے میں سیکھنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) ویزوں کے لیے مطلوبہ شرائط مختلف ممالک میں مختلف قسم کی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ لیکن عام طور پر ان میں دور دراز کی ملازمت، سفری انشورنس اور کم از کم ماہانہ آمدنی کا ثبوت شامل ہوتا ہے۔

یہ سب یقینی بنانے کے لیے ویزا رکھنے والے مقامی ملازمتیں حاصل کیے بغیر اپنی آمدن کے بل بوتے پر رہ سکتے ہیں۔مؤخر الذکر متحدہ عرب امارات میں ماہانہ 5000 ڈالر سے، مالٹا میں 2770 ڈالریا برازیل میں 1500 ڈالر تک کی آمدن مطلوبہ شرط ہے۔

درخواست دینے کے لیے فیس بھی ہے (یہ فیس دو سو ڈالر سے دو ہزار ڈالر کے درمیان ہے) جب کہ ویزے کے لحاظ سے قیام کی مدت چھ ماہ سے دو سال تک ہے۔ کچھ درخواست دہندگان اس رقم کو مراعات کے ذریعے واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ارجنٹائن ایسا ملک ہے جو ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوشوں) کو رہائش، کام کرنے کی جگہوں اور ارجنٹائن ائیر لائینز کی داخلی پروازوں پر اپنے نئے ویزا کے مطابق کم شرحوں پر ٹکٹیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اٹلی کی سیاسی جماعت 'فائیو سٹار موومنٹ' کے ایک پارلیمنٹ کے رکن لوکا کارابیٹا کا کہنا ہے کہ اٹلی دوسرے ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) ویزوں کے بہترین عناصر کو یکجا کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی مطلوبہ شرائط خود سے مرتب کر سکے جس کا ان کے بقول ستمبر تک اجرا شروع ہو جائے گا۔

ویزا کے اہم چیمپئنز میں سے ایک ہوتے ہوئے، وہ توقع کرتا ہے کہ یہ اپنے پہلے پورے سال میں، عالمی نومیڈ (خانہ بدوش) اجیروں کی مارکیٹ کا پانچ فیصد حصہ لے گا، جس کے بارے میں اس کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد چار کروڑ افراد بنتے ہیں۔

کارابیٹا بتاتے ہیں کہ 'ایک ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) ہمارے ملک میں فن تعمیر سے لے کر انجینئرنگ تک ہر چیز کی مہارت لا سکتا ہے، لہذا یہ اپنے ملک کو بیرون ملک سے مہارتوں کے لیے کھولنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔‘

اٹلی جہاں یورپ کی سب سے قدیم تہذیب آج تک برقرار ہے اور سب سے قدیم آبادی کے ہوتے ہوئے وہ عارضی ویزا کو نوجوان باشندوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے طریقے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جو اسے ملک میں مزید مستقل زندگی گزارنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

’ہمارا حتمی مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ وہ، جی ہاں، اٹلی میں مہمانوں کے طور پر، بلکہ ممکنہ طور پر یہاں اپنی زندگی کو مستقل بنیادوں پر استوار کریں۔‘

کارابیٹا کا کہنا ہے کہ نئے ویزا کی تیاری میں، اٹلی نےانفارمیشن ٹیکنالوجی نیٹ ورکس کو بہتر بنانے، ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے اور دیہی برادریوں میں انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے دس لاکھ یوروز سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔یہ سب اس امید پر کہ اٹلی کے دیہی علاقوں کی طرف آنے والے ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) ان کی معاشی ترقی میں مدد کر سکیں گے۔

دریں اثنا، وینس اور فلورنس جیسے شہروں نے پہلے ہی ترقیاتی پروگرام تیار کر لیے ہیں تاکہ ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوشوں) کے پہنچنے کے بعد انھیں ایک موافقانہ اور سازگار ماحول ملے۔

پرتھوی راج چودھری، جن کی ہارورڈ بزنس سکول میں تحقیق روزگار کے بدلتے ہوئے جغرافیہ پر مرکوز ہے، کہتے ہیں کہ اٹلی جیسے ممالک کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’سب سے پہلے، دور دراز کا کارکن مقامی معیشت میں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ مقامی کاروباری افراد کے ساتھ بھی رابطے کر رہے ہیں۔‘

پرتھوی راج چودھری کے خیال میں کسی بھی پیشے کے ہنر اور اس کی مہارت کا مقامی افراد کے ساتھ اشتراک ملکوں کے لیے سب سے بڑے مواقع میں سے ایک ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ان کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ صحیح قسم کے خانہ بدوشوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کریں جو مقامی کمیونٹی کی حیثیت کو بڑھا سکتے ہیں۔

انھوں نے ایک تاریخی مثال کے طور پر 'سٹارٹ اپ چلی' پروگرام کی طرف اشارہ کیا۔ یہ پروگرام سنہ 2010 میں شروع کیا گیا، اس نے غیر ملکی کاروباری افراد کو چلی میں ایک سال گزارنے کے لیے ویزا اور نقد مراعات فراہم کیں تاکہ وہ اپنے اسٹارٹ اپس کو تیار کریں اور مقامی ہنر کی رہنمائی کریں۔

اس وقت چلی کے پاس صرف ایک نوزائیدہ صنعت تھی۔ ایک دہائی کے بعد غیر ملکی ہنرمند افراد کے ساتھ خیالات کے تبادلے کی بدولت، چلی کے کاروباری افرادنے ویگن فوڈ ٹیک کمپنی’ناٹکو‘ اور آن ڈیمانڈ گروسری ڈیلیوری ایپ کارنر شاپ سمیت اب ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی کاروباری سرگرمیوں کا آعاز کیا ہے۔

چودھری بتاتے ہیں کہ 'یہ ایک اچھی مثال ہے کہ اگر آپ باصلاحیت غیر ملکیوں کو اپنے ملک میں صرف ایک سال کے لیے مدعو کرتے ہیں تو ایک سازگار ماحولیاتی نظام کیسے بنایا جا سکتا ہے۔‘

وہ لوگ جو ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) ویزوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں وہ ابھرتی ہوئی معیشتیں یا چھوٹی قومیں ہیں جن کا اپنا ٹیلنٹ روایتی طور پر بڑے ممالک میں منتقل ہوگیا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ 'پہلے، کمپنیاں ٹیلنٹ کے لیے لڑتی تھیں۔ اب ممالک اور خطے بھی ٹیلنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

پرتھوی راج چودھری نے پیش گوئی کی ہے کہ بڑی معیشتیں بھی مسابقتی رہنے کے لیے جلد ہی ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) ویزوں کی پیشکش کر سکتی ہیں۔ اور ان کے خیال میں جو لوگ دور دراز کے کارکنوں کے لیے بہترین ماحولیاتی نظام بناتے ہیں وہ ایسے ویزوں کے سب سے زیادہ فوائد دیکھیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو قیام کی مدت کے دوران ان کو ہم خیال لوگوں اور ہم خیال کاروباری افراد سے جوڑ کر ان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب وہ چلے جائیں تو، آپ کو ایک ایسا پروگرام ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ لوگ جڑے رہ سکیں، کمیونٹی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں اور واپس آتے رہیں۔‘

ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) ویزے بہت سے حوصلہ افزا مواقع پیش کر سکتے ہیں، لیکن یہ نئے چیلنجز بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مصنفین کیٹ ہوپر اور میگھن بینٹن کے مطابق، مثال کے طور پر وہ مقامی زندگی کے اخراجات میں اضافہ کر سکتے ہیں، وسائل کے لیے مسابقت بڑھا سکتے ہیں اور 'استحقاق کے جزیرے' پیدا کر سکتے ہیں۔

محققین، موجودہ ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) 'ہاٹ سپاٹ' کی مثالوں کے طور پر انڈونیشیا کے شہر بالی اور انڈیا کے شہر گوا، کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے حالیہ برسوں میں ان سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں کافی جدوجہد کی ہے۔

کارکنوں کا ایک طبقہ جو مقامی انفراسٹرکچر اور خدمات کا استعمال کرتا ہے لیکن ان کے لیے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتا ہے جو ٹیکس ادا کرنے والے مقامی رہائشیوں میں ناراضگی بھی پیدا کر سکتا ہے۔

عالمی نقل و حرکت ڈیٹا بیس ’ویزا ڈی بی ڈاٹ آئی او‘ کے بانی اور سی ای او دانش سومرو کا کہنا ہے کہ خانہ بدوشوں کے بڑے حصے اب بھی تین سے چھ ماہ کے سیاحتی ویزا کے آپشن کو مختلف وجوہات کی بنا پر استعمال کرتے ہیں، کیونکہ کہ ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) ویزا کے لیے درخواست دینے میں پیچیدگیاں موجود ہیں۔

سومرو کا کہنا ہے کہ ان ویزوں کے حصول میں کاغذی کارروائی بہت زیادہ ہوتی ہے، مہنگے میڈیکل ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں اور ماہانہ آمدنی کا ثبوت دینے والوں کو کئی مشکلات ہوتی ہیں (خاص طور پر فری لانسرز کے لیے)، بہت سے خانہ بدوشوں کو صرف ایک سیاح کے طور پر داخل ہونے اور ضرورت پڑنے پر سرحد پار سے فوری 'ویزہ' لینے کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔

تاہم پانچ سال تک ایسا کرنے کے بعد ٹریمبلے کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ انھوں نے دبئی میں ڈیجیٹل نومیڈ (خانہ بدوش) ویزا کے لیے درخواست دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’روزگار یا سرمایہ کاری کے ذریعے کام نہ کرنے کے باوجود ایک رہائشی کے طور پر جو حیثیت بنے گی وہ اچھی لگتی ہے۔ سافٹ ویئر انجینئر جولین ٹریمبلے دبئی کو مستقبل قریب کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں - یعنی جب تک طویل عرصے سے اس نومیڈ (خانہ بدوش) کو اپنا اگلا ٹھکانا نہیں مل جاتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More