چندی گڑھ یونیورسٹی کی طالبات کی قابلِ اعتراض ویڈیوز پر احتجاج جاری، اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم، یونیورسٹی کی ایک سے زیادہ ویڈیوز وائرل ہونے کی تردید

بی بی سی اردو  |  Sep 19, 2022

BBC

انڈیا کے شہر چندی گڑھ کے قریب ایک نجی یونیورسٹی میں سنیچر کو رات گئے مبینہ طور پر لڑکیوں کی باتھ روم میں خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔

خبر سامنے آتے ہی یونیورسٹی میں لڑکیوں نے احتجاج شروع کر دیا اور اس دوران کچھ لڑکیاں بے ہوش بھی ہو گئیں۔

دراصل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں خبر پھیل گئی کہ ایک طالبہ نے کچھ دوسری طالبات کی قابل اعتراض ویڈیو بنا کر شملہ میں رہنے والے ایک لڑکے کو بھیج دی ہیں۔

اس واقعے کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار گروویندر سنگھ گریوال چندی گڑھ-لدھیانہ روڈ پر واقع اس یونیورسٹی پہنچے۔

یونیورسٹی میں 35 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ہفتے کے واقعے کے بعد اس وقت وہاں پر امن ہے۔ پولیس اور یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔

تاہم اس واقعے کے بعد کچھ والدین اپنے بچوں کو واپس بلا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ حالات بہتر ہونے پر انھیں واپس بھیج دیا جائے گا۔

بی بی سی نے اس معاملے پر وہاں موجود کچھ طالبات سے بات کی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کچھ طالبات نے یونیورسٹی میں سنیچر کو رات گئے پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں بتایا۔

طالبات نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی میں انٹرنیٹ بند ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے یہ ہوسٹل لڑکوں کے لیے تھا جسے کچھ عرصہ پہلے گرلز ہوسٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

کچھ طالبات اس واقعے کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ سے سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: نوجوان خواتین میں خودکشی کی شرح 40 فیصد

معروف انڈین تعلیمی اداروں کے طلبا میں خودکشیوں کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

انڈیا میں ہر 25 منٹ بعد ایک گھریلو خاتون خودکشی کیوں کرتی ہے؟

BBCخودکشی کی افواہوں پر لڑکیوں نے کیا کہا؟

ایک طالبہ نے بتایا کہ سنیچر کی رات ہاسٹل میں ہنگامہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اطلاع ملی کہ ایک لڑکی نے ویڈیو بنائی ہے جو وائرل ہو گئی ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے طالبہ کا کہنا تھا کہ مجھے اس بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں لیکن 50-60 لڑکیوں سے کہا جا رہا ہے کہ ان کی ویڈیوز بنیں۔‘

خودکشی کی کوشش کے بارے میں ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم کچھ طالبات کو خوف و ہراس کے بعد ڈسپنسری لے جایا گیا۔ طالبات کو ہمارے سامنے وہاں بھیجا گیا۔ یہ ڈسپنسری یونیورسٹی کے اندر ہی ہے۔

ایک اور طالبہ نے بتایا کہ ’سنیچر کی شام کو معلوم ہوا کہ ہاسٹل کے ڈی بلاک میں باتھ روم میں کیمرہ لگا کر لڑکیوں کی ویڈیوز بنائی گئی ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ 60 لڑکیوں کی ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔‘

’میری سہیلیاں بھی اسی بلاک میں رہتی ہیں اور اس کے بعد وہ بہت خوفزدہ ہیں۔ ان کے والدین بھی پریشان ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار مطالبہ کیا ہے کہ ہر کوریڈور میں کیمرے لگائے جائیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پر توجہ نہیں دی۔

اب تک کیا ہوا؟یونیورسٹی کی ایک لڑکی پر کئی لڑکیوں کی ویڈیو وائرل کرنے کا الزام تھا۔وائرل ویڈیو میں تقریباً 60 لڑکیوں کی قابل اعتراض ویڈیوز بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔سنیچر کی رات یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد اتوار کی صبح تک ہنگامہ جاری رہا۔پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ملزم لڑکی ویڈیو میں اعتراف کر رہی ہے کہ وہ یہ ویڈیوز شملہ میں رہنے والے ایک لڑکے کو بھیجتی تھی۔CHANDIGARH UNIVERSITY/TWITTER پنجاب کی سرکاری یونیورسٹی کا نام پنجاب یونیورسٹی ہے جبکہ چندی گڑھ یونیورسٹی جو خبروں میں ہے وہ پنجاب کے ضلع موہالی میں واقع ہے

ابتدائی تحقیقات کے بعد ایس ایس پی وویکشیل سونی نے کہا کہ ’کسی بھی لڑکی کی خودکشی کی کوشش کی خبر افواہ ہے، جن لڑکیوں کو ایمبولینس میں لے جایا گیا تھا وہ دراصل احتجاج کے دوران بے ہوش ہو گئی تھیں۔‘

پولیس کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات میں دیگر لڑکیوں کے وائرل ہونے والے ویڈیوز کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ ہاسٹل کے اندر بہت زیادہ توڑ پھوڑ کی گئی اور ملزم لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خودکشی کی افواہوں کے حوالے سے ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ کچھ لڑکیاں خوفزدہ تھیں، جس کے بعد انھیں یونیورسٹی کی ڈسپنسری بھیج دیا گیا۔

سنیچر کے واقعے کے بعد طلبہ کو یونیورسٹی سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ اگرچہ اب وہ اپنے کام سے باہر جا سکتی ہیں لیکن پولیس کے کہنے پر یونیورسٹی کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔

تحفظ کے حوالے سے طالبات کے تحفظات اور مطالبات

ایک اور طالبہ نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ایل سی ہاسٹل کی ایک طالبہ نے کچھ لڑکیوں کی ویڈیوز بنا کر اپنے دوست کو بھیج دیں، جس کے بعد وہ وائرل ہو گئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یونیورسٹی میں یہ کہا جا رہا ہے کہ 60 طالبات کی ویڈیو بنائی گئی ہیں۔

’شام 7 بجے طلبا نے احتجاج شروع کر دیا جو دو بجے تک جاری رہا۔ پولیس کے آنے کے بعد سب کچھ پرسکون ہو گیا۔ اب کچھ بچوں کے والدین انھیں لے جا رہے ہیں۔‘

’یونیورسٹی نے وائی فائی کو بند کر دیا ہے، موبائل نیٹ ورک کو بند کر دیا ہے اور جیمرز لگا دیے ہیں۔ ہم صرف کال کر سکتے ہیں، ہماری انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ یہ ہاسٹل پہلے لڑکوں کے لیے تھا اور اب اسے لڑکیوں کے ہاسٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی کی جو وہاں ہونی چاہیے تھی، کیمرے وغیرہ یہاں نہیں ہیں۔‘

یونیورسٹی نے کیا کہا؟

چندی گڑھ یونیورسٹی کے پرو چانسلر آر ایس باوا نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کی خودکشی کی افواہ جھوٹی ہے، ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کی وجہ سے کسی کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’میڈیا میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کئی لڑکیوں کی ایم ایم ایس ویڈیوز ملی ہیں، یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔‘

’ابتدائی تفتیش میں کسی طالبہ کی ایسی کوئی ویڈیو نہیں ملی ہے۔ طالبہ کی ایک ذاتی ویڈیو ملی ہے جو اس نے خود اپنے بوائے فرینڈ کو بھیجی تھی۔‘

https://twitter.com/Chandigarh_uni/status/1571430316379865089?s=20&t=kLApEjgDpltPfyNunD9Riw

معاملے کی تحقیقات کے لیے فرانزک ٹیم کو طلب کر لیا گیا ہے اور ملزمہ کا فون پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ پنجاب کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے اپیل کی ہے کہ ایسی کوئی وائرل ویڈیو آگے شیئر نہ کی جائے۔

یہ چندی گڑھ یونیورسٹی کہاں ہے؟

خبروں میں مذکورہ پرائیویٹ یونیورسٹی کا نام چندی گڑھ یونیورسٹی بتایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے پنجاب یونیورسٹی جو کہ ایک سرکاری یونیورسٹی ہے سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ خبروں میں جس چندی گڑھ یونیورسٹی کی بات کی جا رہی ہے وہ ایک پرائیویٹ یونیورسٹی ہے اور موہالی ضلع میں واقع ہے۔

یہ یونیورسٹی چندی گڑھ سے 24 کلومیٹر دور چندی گڑھ-لدھیانہ ہائی وے پر گھنڈوا شہر میں واقع ہے۔

یہ یونیورسٹی جولائی 2012 میں پنجاب قانون ساز اسمبلی میں منظور ہونے والے پرائیویٹ یونیورسٹیز بل کے تحت وجود میں آئی تھی۔

ستنام سنگھ اس یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ ماضی میں انھوں نے سکھ رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ سٹیج بھی شیئر کیا۔

اگست کے مہینے میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی 'ہر گھر ترنگا' مہم کے دوران، اس یونیورسٹی نے NID فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر لہراتے ہوئے پرچم کی اب تک کی سب سے بڑی انسانی تصویر بنائی ہے۔

یہ بھی اپنے آپ میں ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔ ریکارڈ گنیز بک میں درج کر لیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More