سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیماریاں: ’یہ ٹھیک ہی نہیں ہوتے، کھانسی، سینے میں تکلیف، بچے بڑے سب ہی بیمار ہیں‘

بی بی سی اردو  |  Sep 23, 2022

BBC

راشد علی ایک بالٹی میں سیلابی پانی لاتے اور اپنی آٹھ برس کی بھانجی کے سر اور پاؤں پر ڈال رہے تھے۔ بچی کپکپا رہی تھی۔ راشد اور ان کی بھانجی کے ارد گرد ہی زمین اور بینچوں پر متعدد مریض اور بھی موجود تھے جن میں سے اکثر کو ڈرپ لگی ہوئی تھی۔

مریضوں کو لگی یہ ڈرپس دیوار میں لگی ہوئی کیلوں اور بجلی کے تاروں کے ساتھ باندھی گئی تھیں کیونکہ ڈرپ سٹینڈز موجود نہیں تھے۔

یہ منظر ہے دو کمروں پر مشتمل ایک نجی کلینک کا جو سندھ کے ضلع دادو کے قریب واقع چھنڈن موری گاؤں کا ہے۔ اس کلینک کے آس پاس سیلاب متاثرین خیموں یا سائبان کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے جبکہ سامنے کشتیاں کھڑی تھیں جو لوگوں کو جوھی اور دیگر علاقوں میں لے کر جا رہی تھیں جو حالیہ سیلاب کی وجہ سے زیر آب آچکے تھے۔

اقوام متحدہ میں بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں مون سون کی شدید بارشوں سے آنے والے تباہ کن سیلاب سے 528 بچوں سمیت 1500 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔

راشد علی کا تعلق الھ بچایو گاؤں سے ہے جو اس وقت زیر آب ہے۔

نجی کلینک کے باہر اپنی بھتیجی پر پانی ڈالتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اِس کو بخار ہو رہا ہے اور ٹھنڈ بھی محسوس کر رہی ہے۔

بچی کو انجیکشن نہیں لگ سکتا لہذا پانی ڈال کر وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس کا بخار کم ہو، تاکہ اس کو انجیکشن لگ پائے اور ریلیف ملے۔

BBC

اُن کا کہنا ہے کہ ’ایک کے بعد ایک گھر کا فرد بیمار ہو رہا ہے۔ پرسوں بھانجا ٹھیک نہیں تھا اور آج بھتیجی کو لے کر آیا ہوں۔ جب سے سیلاب آیا ہے مچھر بہت ہو گئے ہیں۔ سب بندوں کو ایسا ہی بخار ہوتا ہے۔‘

’سرکاری ہسپتالوں میں علاج کراتے ہیں، کل بھی ایک ٹیم آئی تھی لیکن قابل اطمینان علاج نہیں ہوتا۔ حکومت کی طرف سے صرف ایک دو گھنٹے کے لیے کیمپ لگتا ہے اور وہ پھر چلے جاتے ہیں۔ یہ مقامی ڈاکٹر تو فیملی ڈاکٹر ہوتے ہیں، یہاں رہتے ہیں، انھیں بچے کو دکھاتے ہیں تو یہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔‘

سیلاب سے متاثرہ سندھ کے تمام ہی اضلاع میں سیلابی پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بن رہا ہے، جس سے ملیریا اور ڈینگی پھیل رہے ہیں، دادو کے سول ہسپتال میں مریضوں کی آمد میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ مریضوں کو سنبھالنا اب ڈاکٹروں اور دستیاب طبی عملے کے لیے دشوار ہو چکا ہے۔

میڈیکل سپرنٹینڈنٹ عبدالکریم میرانی کے مطابق ان کی ہر او پی ڈی پانچ سے آٹھ ہزار تک بڑھ گئی ہے۔ ’ٹیسٹنگ میں 50 فیصد ملیریا ہے اور ایک ایک ڈاکٹر ہزار ہزار مریض دیکھ رہا ہے۔‘

ان کے مطابق دادو ضلع کی تین تحصیلیں خیرپور ناتھن، میھڑ، جوھی، بھان، سیدآباد سیلاب اور بارش سے متاثر ہیں اور متاثرین میں سے اکثریت نے دادو میں پناہ لے رکھی، ان میں گیسٹرو، ٹائیفائیڈ، جلدی امراض اور ملیریا عام ہے بلکہ ملیریا تو چلینج بن چکا ہے۔‘

BBC

ہر جگہ بچوں کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے۔ اوسطاً ایک جوڑے کے کم سے کم بھی پانچ سے چھ بچے ہیں، سولہ سترہ سال کی عمر کی بھی ماں ہے تو 40، 45 اور پچاس سال کی عمر کی بھی مائیں ہیں۔

پینے کے صاف پانی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بچے ڈائریا اور ہیضے کا شکار ہو رہے ہیں۔

بچوں میں سے کچھ نے جسم پر کچھ نہیں پہنا ہوا تھا تو کچھ بے لباس تھا۔ ان کی ایک بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار بھی نظر آتی ہے۔

سرکاری تعلیمی ادارے میں قائم کیمپ ہو، خیمہ یا سڑک پر موجود متاثرین، ہر کسی کے پاس کھانے کی شکایت موجود تھی کہ وہ ہر وقت چاول نہیں کھا سکتے اور اپنے بچوں کو کیا دیں۔

دادو جوھی روڈ پر کالج میں واقع کیمپ کے باہر چارپائی پر سمی اپنے چار بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ ان کا دس برس کا بھائی دوپہر ایک بجے کی گرمی میں بھی کمبل اوڑھے لیٹا تھا اور سکڑنے کے باوجود اس کے کپکپاتے ہوئے پاؤں نظر آ رہے تھے۔

سمی نے بتایا کہ اس کے چھوٹے بھائی سمیت پانچ بچے بخار، اسہال اور کھانسی میں مبتلا ہیں۔

انھوں نے گود میں ڈیڑھ سال کے بیٹے کو اٹھا رکھا تھا جو مسلسل روتا رہا۔ ان کے سامنے ایک پلیٹ میں سرخ مرچوں کے ساتھ شوربے والا سالن موجود تھا جس میں چند ٹکڑے آلو کے بھی نظر آ رہے تھے۔

BBC

بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سمی نے سرائیکی زبان میں کہا کہ ’یہ ٹھیک ہی نہیں ہوتے۔‘

’کھانسی، سینے میں تکلی۔۔۔ یہ چھوٹے بچے اور بڑے سب ہی بیمار ہیں۔ ڈاکٹر کو دکھایا لیکن آرام نہیں آ رہا۔ ہمیں تو کھانا بھی نہیں مل رہا بلکہ اپنا ہی پکا رہے ہیں۔ اب ہم کھانے کا بندوبست کریں یا ڈاکٹر کا انتظار۔۔۔ ہم غریب لوگ کہاں جائیں۔‘

سمی کی رہائش خیرپور ناتھن شاہ میں تھی جہاں سے 20 روز قبل وہ یہاں کیمپ میں منتقل ہوئے تھے۔

اس کیمپ میں ایک ڈاکٹر موجود تھے جن کے پاس متعدد غیر معروف سیرپ اور دیگر ادویات موجود تھیں۔ یہاں نہ سٹیتھ سکوپ ہے نہ بلڈ پریشر چیک کرنے کا آلہ اور نہ بچوں کا وزن کرنے کی کوئی مشین موجود تھی۔

یہاں ڈاکٹر سے میں نے پوچھا کہ مریض شکایت کر رہے ہیں کہ انھیں فائدہ نہیں پہنچ رہا اس کی کیا وجہ ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ ادویات دے رہے ہیں، لوگ بار بار آتے ہیں وہ بار بار دوا دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حالیہ سیلاب سے دو ہزار کے قریب صحت کے مراکز جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ ان میں خیرپور ناتھن سمیت نصف درجن مراکز دادو کے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’زمین کا خشک ٹکڑا ہوتا تو شاید بہنوئی کی جان بچ جاتی‘

سندھ کا علاقہ ’کاچھو‘ جہاں ہر دوسرا گاؤں پانی میں گھرا ہے

سندھ: سیلاب کے پانی سے سانپ نکل کر خیموں میں متاثرین کو کاٹ رہے ہیں

دادو، جامشورو سمیت سندھ کے تمام متاثرہ علاقوں میں اس وقت محکمہ صحت کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں نے بھی میڈیکل کیمپ لگائے ہیں۔

دادو کے سیال بند پر بھی ایک میڈیکل کیمپ موجود تھا، جس میں لیڈی ڈاکٹرز بھی موجود تھیں۔

یہاں ڈیسک پر نامور کمپنیوں کی ادویات کے ساتھ ملیریا کے ریپڈ ٹیسٹ کی سہولت بھی دستیاب تھی۔ یہ تمام سہولیات محکمہ صحت کے صرف اسی کیمپ میں نظر آئیں۔ اس علاقے کے آس پاس بھی متاثرین کی کیمپ واقع تھے۔

محکمہ صحت دادو کے ضلعی افسر ڈاکٹر احمد علی سمیجو نے تسلیم کیا کہ خواتین اور بچوں میں غذائی قلت ہے اور اس کے لیے انھیں نیوٹریشن سپلیمننٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق ’مچھر بہت ہو گئے ہیں۔ سپرے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملیریا کو کنٹرول کیا جا سکے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے گھر ہے، پورے ضلع میں صفائی ستھرائی کی صورتحال ٹھیک نہیں تاہم گیسٹرو پر قابو پا لیا ہے۔‘

سندھ میں کئی علاقے اس وقت بھی زیر آب ہیں۔ ان علاقوں کے آس پاس کی آبادی میں جلد کے امراض بھی پھیلے ہوئے ہیں۔

ہر کیمپ میں ایسے بچے نظر آتے ہیں، جن کے جسم اور چہرے پر دانے ہیں۔ سکھر نیو پنڈ سے لے کر شھدادکوٹ، خیرپور، لاکھا روڈ اور جامشورو سمیت کئی علاقوں سے سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں بچے جلدی امراض کا شکار نظر آتے ہیں۔

دادو بائی پاس کے قریب انڈس ہائی وے پر سڑک کے کنارے شیلٹر میں موجود محمد بخش خیرپور ناتھن شاہ کے علاقے گوزو سے آئے تھے۔

ان کی دو سالہ بیٹی کا چہرا دانوں کی وجہ سے سرخ تھا جبکہ چار سال کا بیٹا بھی پیٹھ پر دانوں کے باعث پریشان تھا۔

BBC

محمد بخشنے بتایا کہ بچوں کو یہ جلدی امراض پانی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ وہ سیلابی پانی سے نکل کر آئے ہیں، بچوں کو وہ ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے لیکن دوائی نہیں لگ رہی۔

حکومتی اعداد و شمار سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد کو ریلیف اور شیلٹر کی سہولت دستیاب نہیں اور وہ سڑکوں پر موجود ہیں۔

سندھ کے محکمہ آفات کے مطابق سندھ میں 72 لاکھ سے زائد آبادی حالیہ بارشوں سے بے گھر ہوئی ہے۔ ان میں سے صرف ساڑھے چھ لاکھ سے زائد افراد سرکاری کیمپوں میں ہیں جبکہ پونے تین لاکھ سے زائد خیمے فراہم کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانی کم ہونے اور نکاسی میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ ڈبلیو ایچ او متنبہ کر چکا ہے کہ بڑھتے ہوئے امراض ایک اور بحرانی صورتحال کو جنم دے سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More