مہسا امینی: سکیورٹی فورسز کی ساتھ جھڑپوں میں 23 مظاہرین ہلاک، خاتون اینکر کا ایرانی صدر کا انٹرویو لینے سے انکار

بی بی سی اردو  |  Sep 23, 2022

امریکی نیوز چینل سی این این کی اینکر کرسچیئن امان پور نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا انٹرویو منسوخ کر دیا کیونکہ صدر رئیسی چاہتے تھے کہ کرسچیئن امان پور اُن کا انٹرویو سر پر سکارف پہن کر کریں۔

امان پور نے دلیل دی ہے کہ ماضی میں ایران سے باہر کسی اور ملک میں ہونے والے انٹرویوز میں کبھی کسی صدر نے اُن سے ایسا مطالبہ نہیں کیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ رئیسی کے معاون نے انھیں بتایا کہ ایسا ’ایران کی موجودہ صورتحال‘ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں گذشتہ جمعہ کے دن مہسا امینی نامی 22 سالہ خاتون پولیس میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ ایران کی پولیس کا دعویٰ تھا کہ مہسا کو اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ اس کے سر کے بال حجاب سے نظر آ رہے تھے یعنی وہ باقاعدہ حجاب کے اصولوں پر عمل پیرا نہیں تھیں۔

اس واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ تہران میں گرفتاری کے بعد امینی کو پولیس وین میں مارا پیٹا گیا، تاہم پولیس ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

اس واقعے کے بعد سے ایران میں مظاہروں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق اب مظاہروں کا دائرہ ایران کے 80 شہروں تک پھیل چکا ہے۔ حکام کے مطابق پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

EPA

رئیسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں تھے اور یہ ان کا امریکی سرزمین پر پہلا انٹرویو تھا۔ امان پور نے کہا کہ وہ انٹرویو لینے کے لیے تیار ہیں، لیکن پھر صدر کے ایک معاون نے اصرار کیا کہ رئیسی چاہتے ہیں کہ وہ (امان پور) اپنے بالوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔

امان پور نے بعد میں ٹویٹر پر لکھا، ’ہم نیویارک میں ہیں، جہاں سر ڈھانپنے کے بارے میں کوئی اصول یا قانون نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ صدر ریئسی کے معاون نے واضح طور پر کہا کہ اگر وہ سر پر سکارف نہیں پہنتیں تو انٹرویو نہیں ہو گا کیونکہ یہ ’عزت کا سوال‘ ہے۔

اس کے بعد امان پور کی ٹیم وہاں سے روانہ ہو گئی۔ کرسچیئن امان پور نے اسے ’بے مثال اور غیر متوقع صورتحال‘ قرار دیا۔

ایران میں خواتین

سنہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ایک قانون بنایا گیا جس کے مطابق خواتین کو اسلامی طور طریقے کا لباس پہننا ہو گا۔ اس کے بعد خواتین کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ چادر پہنیں جس سے ان کا جسم ڈھانپے، اس کے ساتھ ساتھ سر پر سکارف یا حجاب یا برقعہ پہنیں۔

حالیہ برسوں میں ایران میں حجاب کی لازمی شرط کے حوالے سے کئی مہمیں چلائی گئی ہیں لیکن ایران کی مذہبی امور کی پولیس نے ڈریس کوڈ کی پابندی نہ کرنے کے الزامات پر سخت کارروائی کی ہے، جس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

اسی دوران ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایزی نے کہا کہ حجاب کے خلاف مہم کے پیچھے غیر ملکی طاقتیں ہیں۔

موسم گرما کے دوران صدر ریئسی نے مہم کا براہ راست حوالہ دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ ’اسلامی معاشرے میں منظّم بدعنوانی کو فروغ دینے‘ کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔

گذشتہ چند مہینوں کے دوران، ایران کے سرکاری ٹی وی چینلز نے خواتین کی ویڈیوز نشر کی ہیں جن میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ انھیں لباس کے سخت ضابطوں پر عمل نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

بہت سے ایرانیوں کا الزام ہے کہ اس سخت کارروائی کے پیچھے ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کا ہاتھ ہے۔ ان کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے جس میں وہ مذہبی معاملات میں پولیس کے کردار اور اس کے کام کرنے کے طریقے کی تعریف کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ایسا لگتا ہے جیسے ہم شکار کرنے جا رہے ہیں‘: ایران کی اخلاقی پولیس کیسے کام کرتی ہے؟

خاتون کی ہلاکت پر ایران میں احتجاج: ’ژینا نے ہمارے لیے آزادی کا راستہ کھول دیا‘

مہسا امینی کی ہلاکت: ایران میں خواتین کا بال کٹوا کر احتجاج

ایران میں مظاہروں کی تازہ ترین صورتحال

بی بی سی فارسی کے مطابق مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ایران کے 80 شہروں تک پھیل ہو چکا ہے اور سرکاری اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے آغاز کو آج ساتواں روز ہے اور ایران کے کئی مقامات پر انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکس اور میسنجر تک رسائی میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق ایران میں حکام چاہتے ہیں کہ مظاہروں سے متعلقہ خبریں عوام تک نہ پہنچ پائیں اور اسی غرض سے وہاں بڑے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔

امریکی محکمہِ خزانہ نے اخلاقی پولیس اور سات ایرانی ملٹری اور سکیورٹی اہلکاروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس ادارے اور افراد پر ’ایرانی خواتین کے خلاف تشدد اور پرامن مظاہروں کے حقوق کی خلاف ورزی‘ کی وجہ سے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی فٹ بال کے لیجنڈز میں سے ایک علی کریمی نے اپنے ملک کی فوج سے خون خرابہ روکنے کے لیے مداخلت کرنے کو کہا ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں سوشل نیٹ ورکس کے بہت سے صارفین نے ایرانی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ان کی رائے کے اظہار کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

ایران میں ایسنا نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ جمعرات کی شام سے ناقابل رسائی ہے، اور isna.ir ایڈریس تک رسائی کی کوئی بھی کوشش نیوز ایجنسی کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لے جاتی ہے۔

اینانیمس جو کہ دنیا کا سب سے بڑا ہیکنگ گروپ ہے اس کا دعوی ہے کہ اس نے گذشتہ تین دنوں میں ایران میں کئی سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کیا ہے۔ اس گروپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ شہر کے 1000 کیمروں کو غیر فعال کرنے کے قابل ہے تاکہ وہ مظاہرین کی شناخت اور احتجاجی اجتماعات کی نگرانی نہ کر سکیں۔

اینانیمس Anonymous نے پہلے ایرانی حکومت سے کہا تھا ’ہم آپ کو انٹرنیٹ پر بند کر دیں گے اور ایران کے اندر کے لوگ آپ کا تختہ الٹ دیں گے۔‘

ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ دستیاب نہیں ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کی ویب سائٹ ہیک کی گئی تھی یا نہیں۔

امریکی کانگریس کی اعلیٰ ترین عہدیدار نینسی پلوسی نے ٹویٹر پر مہسا امینی کی موت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایرانی عوام کی بہادر آواز پوری دنیا میں سُنی گئی ہے۔ امریکی کانگریس مہسا امینی کی خوفناک موت پر سوگ میں ان کے ساتھ شامل ہے۔ تہران کو تشدد اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کی منظم مہم کو ختم کرنا چاہیے۔‘

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایران سے کہا کہ وہ مظاہرین کو دبانا بند کرے اور اپنے عوام کے آزادی اظہار کے حق کا احترام کرے۔ انھوں نے جمعرات کو ٹویٹر پر لکھا ’کینیڈا ان لوگوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو ایران میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور پرامن طریقے سے مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کو دبانے اور خواتین کے خلاف مسلسل ہراساں اور امتیازی سلوک بند کرے۔‘

معروف ایرانی مصنفہ اور امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سابق پروفیسر آذر نفیسی کہتی ہیں کہ ’ایرانی خواتین ایک صدی سے زیادہ عرصے سے آزادی کے لیے لڑ رہی ہیں اور یہ ان کے لیے درآمد شدہ ثقافت نہیں ہے۔ ایک بار جب لوگ خوف اور دھمکی پر قابو پا لیتے ہیں، تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More