اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل، ’جلد وطن واپس آ رہے ہیں‘

اردو نیوز  |  Sep 23, 2022

احتساب عدالت کی جانب سے دائمی وارنٹ گرفتاری کی معطلی کے بعد سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

جمعے کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ سات اکتوبر تک معطل کر دیے اور انہیں عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کرنے کا موقع دے دیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ ’اسحاق ڈار پاکستان واپس آ جائیں پھر وارنٹ منسوخی کو دیکھیں گے۔‘

عدالت نے ہدایت کی کہ اسحاق ڈار کو پاکستان آنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سات اکتوبر سے قبل پاکستان آ جائیں گے۔

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار نے کہا کہ ’اسحاق ڈار جلد پاکستان واپس آ رہے ہیں۔ وارنٹ معطل ہونے سے انہیں موقع ملے گا کہ وہ نیب تحقیقات کو جوائن کر لیں اور کیس آگے چلے۔‘

علی ڈار کے مطابق اسحاق ڈار پر 20 سال ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کروانے کی جھوٹی بنیاد پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے انہوں نے کبھی ایک دن بھی ریٹرن جمع کروانے میں تاخیر نہیں کی۔‘

علی ڈار نے بتایا کہ وارنٹ معطل ہونے سے اسحاق ڈار کو موقع ملے گا کہ وہ نیب تحقیقات کو جوائن کر لیں اور کیس آگے چلے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)انہوں نے امید ظاہر کی کہ سابق وزیر خزانہ عدالت سے سرخرو ہوں گے۔

اسلام آباد میں گزشتہ کئی دنوں سے اسحاق ڈار کی بطور وزیرخزانہ واپسی کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

ان اطلاعات کی بنیاد اسحاق ڈار کی سپریم کورٹ اور احتساب عدالت میں وارنٹس کی معطلی کے علاوہ موجودہ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی چھ ماہ کی مدت کا خاتمہ بھی ہے جو اگلے ماہ ہو رہا ہے۔

آئین کے مطابق کوئی ایسا شخص جو پارلیمنٹ کا ممبر نہ ہو وہ صرف چھ ماہ ہی وفاقی وزیر رہ سکتا ہے اس لیے مفتاح اسماعیل 18 اکتوبر تک وزیر خزانہ رہ سکتے ہیں۔

اس کے بعد وہ وزیر نہیں رہیں گے انہیں سینٹ یا قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونا ہو گا ورنہ وہ صرف مشیر کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ بطور مشیر ان کے اختیارات محدود ہو جائیں گے اور وہ ای سی سی سمیت اہم اجلاسوں کی صدارت نہیں کر پائیں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More