زمین کو محفوظ رکھنے کا مشن، ناسا کا خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

ہم نیوز  |  Sep 27, 2022

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنے نئے تجربے میں اپنا ایک خلائی جہاز ایک سیارچے سے ٹکرا کر تباہ کر دیا ہے۔

اس مشن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ یک بڑے حجم کے خلائی پتھر کو زمین سے ٹکرانے سے روکنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے، خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہے۔ اس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے۔

جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

Don’t want to miss a thing? Watch the final moments from the on its collision course with asteroid Dimporphos.

— NASA (@NASA) September 26, 2022

ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ  زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کی چاند پر واپسی، نیا مشن 29 اگست کو لانچ ہو گا

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تجربے کے بعد یہ سیارچہ اپنے قریبی موجود  ڈیڈیموس نامی سیارچے کے مدار کی جانب روزانہ چند منٹ بڑھنا شروع ہو جانا چاہیے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کی ڈاکٹر نینسی چابوٹ کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے آپ برسوں پہلے ہی کسی سیارچے کو اس کے مدار سے تھوڑا سا ہٹانے کے لیے ایک جھٹکا دیں تاکہ مستقبل میں زمین اور وہ سیارچہ آپس میں ٹکرانے سے بچ سکیں۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More