آمدن سے زائد اثاثہ جات، اسحاق ڈار 5 سال بعد احتساب عدالت کے سامنے سرنڈر

ہم نیوز  |  Sep 28, 2022

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آمدن سے زائد اثاث جات ریفرنس میں خود کو پانچ سال بعد احتساب عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج اسلام آباد میں احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے ، ان کے ہمراہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ بھی تھے، عدالت نے حاضری کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے نیب سے 7اکتوبر تک جواب طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:

عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں ان کا  پاسپورٹ منسوخ کیا گیا تھا، ان کے  خلاف بے بنیاد کیس بنایاگیا ،جس کی وجہ سے تکالیف برداشت کیں،میں نے پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دی ہیں،انتقام اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ مجرم پھرتے ہیں اور شریف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

عمران خان نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،آج بھی اگر معاشی مشکلات ہیں تو یہ عمران خان کی وجہ سے ہیں،میں نے کبھی اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں تاخیر نہیں کی۔

پاکستان اس وقت مس مینجمنٹ کا شکار ہے، پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے،عمران خان ملک کو مزید مشکلات سے دوچار نہ کریں،عمران خان نے جاتے جاتے معیشت کو نقصان پہنچا یا ،وہ کہتے رہے ہیں کہ میں نے بارودی سرنگ بچھادی ہے، کچھ خوف کریں پاکستان کو چلنے دیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ غیر قانونی کام ہوتے رہے ہیں،میرے خلاف کیس کو 10منٹ میں ہوامیں اُڑ جاناچاہیے تھا،

وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ معیشت کو بحال کریں گے سب سے پہلے شرح سود کو نیچے لائیں گے،پاکستان کے 5 سال ضائع ہو گئے اور ملک اب 30 سال پیچھے جا چکا ہے،پاکستان ڈیفالٹ سے دور ہوگیاہے،کچھ دن دیں ،معیشت بہترکرنے کی کوشش کریں گے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ جو کہہ رہے ہیں کہ ڈیل ہوئی ہے ان سے پوچھیں کہ مجھے پاسپورٹ کیوں نہیں دیا گیا،مفتاح اسماعیل نے اپنے تجرنے کی بنیاد پر معیشت بہترکرنے کی کوشش کی، وہ ہماری معاشی ٹیم کا حصہ رہیں گے،4سال  کی خراب معیشت کو 6ماہ میں ٹھیک نہیں کیاجاسکتا،سیاست کو ایک طرف کرکے ملکی مفاد کے لیے کام کرنا ہوگا،پیٹرول کی قیمتوں پر اب کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت نے عدم حاضری کی بنیاد پر اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے جنہیں گزشتہ ہفتے معطل کر دیا گیا تھا اور عدالت نے حکم دیا تھا کہ انہیں وطن واپس پر گرفتار نہ کیا جائے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More